7 برس بعد دہلی عدالت سے دو کشمیری نوجوان بری

7 برس بعد دہلی عدالت سے دو کشمیری نوجوان بری

یو اے پی اے کیس میں استغاثہ ناکام، پولیس شواہد پر سنگین سوالات

سرینگر//یو این ایس / دہلی کی ایک عدالت نے یو اے پی اے کیس میں گرفتار دو کشمیری نوجوانوں کو سات برس بعد بری کرتے ہوئے قرار دیا کہ استغاثہ اپنے الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا اور تفتیش میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کی۔ پٹیالہ ہاوس کوٹ کے ایڈیشنل سیشن جج امیت بنسل نے جمشید ظہور پال اور پرویز رشید لون، ساکنان شوپیان، کو تمام الزامات سے بری کر دیا۔ دونوں کو ستمبر 2018 میں دہلی پولیس سپیشل سیل نے یو اے پی اے اور آرمز ایکٹ کے تحت گرفتار کیا تھا۔یو این ایس کے مطابق 79 صفحات پر مشتمل فیصلے میں عدالت نے کہا کہ ‘‘استغاثہ ملزمان کے خلاف الزامات کو معقول شک سے بالاتر ہو کر ثابت کرنے میں ناکام رہا’’، لہٰذا دونوں کو بری کیا جاتا ہے۔کیس کے مطابق پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ 6 ستمبر 2018 کو خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے دونوں ملزمان کو جامع مسجد بس اسٹاپ کے قریب گرفتار کیا گیا اور ان کے قبضے سے دو پستول اور گولیاں برآمد کی گئیں۔ تاہم عدالت نے مبینہ برآمدگی پر شکوک ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ضبطی دستاویزات میں ایف آئی آر نمبر درج ہونے کے حوالے سے تضادات پائے گئے، جس سے استغاثہ کے مؤقف کی سچائی مشکوک ہو جاتی ہے۔عدالت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ اتنے مصروف عوامی مقام پر کارروائی کے باوجود کسی آزاد گواہ کو شامل نہیں کیا گیا، جو تفتیشی عمل پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔مزید برآں، الیکٹرانک شواہد کے حوالے سے بھی سنگین بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔ یو این ایس کے مطابق عدالت کے مطابق ملزمان سے ضبط کیے گئے موبائل فون تقریباً دو ماہ تک بغیر سیل کیے پولیس تحویل میں رکھے گئے، جس سے ان میں چھیڑ چھاڑ کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔اسی بنیاد پر عدالت نے مبینہ چیٹ ریکارڈز اور دیگر ڈیجیٹل شواہد کو ناقابلِ اعتبار قرار دیا۔استغاثہ نے دعویٰ کیا تھا کہ ملزمان کا تعلق داعش سے ہے اور وہ دہشت گردی کی سرگرمیوں کے لیے اسلحہ حاصل کرنے آئے تھے، تاہم عدالت نے کہا کہ اس حوالے سے کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ استغاثہ یہ ثابت کرنے میں بھی ناکام رہا کہ ملزمان کسی دہشت گرد تنظیم کے رکن تھے یا کسی سازش کا حصہ تھے۔یہ فیصلہ ایک ایسے کیس کا اختتام ہے جس میں دونوں نوجوان سات برس تک حراست میں رہے۔