سری نگر//وزیر برائے صحت اور تعلیم سکینہ اِیتو نے کہا کہ حکومت جموں و کشمیر میں 50 فیصد تدریسی عہدے غیر منجمد کر رہی ہے۔وزیر موصوفہ آج قانون ساز اسمبلی میں رُکن اسمبلی جاوید اِقبال کے ایک سوال کا جواب دے رہی تھیں۔اُنہوں نے کہا کہ اِس اقدام سے سکولوں میں عملے کی کمی دور ہوگی اور سرکاری سکولوں میں داخل لینے والے طلبأ کو بہتر تعلیم فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔اُنہوںنے بتایا کہ حکومت سماگراہ شکھشاکے تحت سکولوں کے بنیادی ڈھانچے کی بڑے پیمانے پر ترقی کر رہی ہے تاکہ تمام سکولوں میں طلبأ کو مکمل اور مناسب سہولیات فراہم کی جا سکیں۔وزیر موصوفہ نے کہا،’’ان علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کی ترجیح طے کرنے کے لئے منتخب نمائندوں سے مشاورت کی جاتی ہے۔‘‘اُنہوںنے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ بدھل میں کل 917 تدریسی اور انتظامی عہدے ہیں جن میں پرنسپل، لیکچرز، زیڈ اِی اوز، ہیڈ ماسٹر، ماسٹرز اور ٹیچرز شامل ہیں جن میں سے 484 اسامیاںہیں اور اسامیاں 433 خالی ہیں۔وزیر سکینہ اِیتونے کہا کہ بدھل حلقہ کے 67 سرکاری سکول اپنے عمارتوں کے بغیر چل رہے ہیںجن میں سے 33 سکولوں کی عمارتیں سال 2024-25 اور 2025-26 میں سماگراہ شکھشا کے تحت منظور اورمنظور شدہ ہیں۔ باقی عمارتیں بعد کے اقدامات کے تحت سماگراہ شکھشا،یوٹی وڈِسٹرکٹ کیپکس کے تحت مرحلہ وار تجویز کی جائیں گی۔مزید بتایا گیا کہ بدھل حلقہ کے 115 سکول عمارتیں حالیہ سیلاب کے بعد غیر محفوظ قرار دی گئی ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ حالیہ اے ٹی ڈِی کے دوران بدھل حلقہ کے ’’اسپریشنل بلاک‘‘ کھواس میں 26 اساتذہ تعینات ہیں۔وزیر موصوفہ نے کہا کہ راجوری ضلع میں مجموعی پی ٹی آر 15:1 ہے اور بدھل حلقہ میں 24:1 ہے جو قومی مقررہ معیار 30:1 کے اندر ہے۔ عملے کی کمی کوپی ٹی آر برقرار رکھنے کیلئے ریشنلائزیشن کے ذریعے پورا کیا جارہا ہے ۔اُنہوںنے بتایا کہ بدھل حلقہ میں تدریسی اور غیر تدریسی عملے کی کمی دور کرنے کے لئے سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی اقدامات میں شامل ہیں۔وزیرسکینہ ایتو نے کہا کہ ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن راجوری کے تحت منصوبہ ’’تعمیر‘‘ 2015-16 میں منریگا کے تعاون سے 100 سکول عمارتیں تعمیر کرنے کے لئے شروع کیا گیا۔ 100 عمارتوں میں سے 40 بدھل حلقہ میں ہیں جن میں سے 2 مکمل ہو چکی ہیں۔










