سرینگر//25جون//کے این ایس //جموں وکشمیرکے سابق وزیر اعلیٰ اورکانگریس کے سینئرلیڈر غلام نبی آزاد نے کہا کہ وزیر اعظم کے ساتھ میٹنگ میں سبھی جماعتیں اس بات پر مصر رہیں کہ ریاستی درجے کی بحالی کے بعد ہی جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات ہونے چاہئے۔انہوں نے کہا کہ دفعہ 370 کی بحالی پر سبھی جماعتوں کا کہنا تھا کہ یہ مسئلہ عدالت عظمیٰ میں زیر سماعت ہے اس لئے اس پر بات نہیں کریں گے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جو 5 چیزیں ہم نے مانگیں، ان میں سے تین پر وزیر داخلہ امت شاہ نے بات کی۔غلام نبی آزاد نے نئی دہلی میں ایک نیوز چینل کیساتھ بات کرتے ہوئے کہاکہ ہم نے پانچ چیزیں مانگیں، دفعہ 370 کا معاملہ چونکہ عدالت عظمیٰ میں ہے ،اس لئے ہم نے اس پر بات نہیں کی اور نہ ہی اس کی مانگ کی ۔غلام نبی آزاد کاکہناتھاکہ باقی جماعتوں کے لیڈروں نے خود بھی کہا کہ دفعہ 370 عدالت میں زیر سماعت ہے اس لئے یہاں آج اس پر بات نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ میٹنگ میں ہم نے الیکشن سے پہلے ریاستی درجے کی بحالی کی بات رکھی۔غلام نبی آزاد نے کہاکہ ہم نے جموں و کشمیر میں جلدی اسمبلی انتخابات کرانے کی بات کی جس کے جواب میں وزیر داخلہ نے کہا کہ چونکہ سات سیٹیں بڑھ گئی ہیں لہٰذا پہلے اسمبلی نشستوں کی سر نو حد بندی کرنی ہے ،اس کے بعد انتخابات ہوں گے لیکن ہم نے زور دیا کہ انتخابات سے پہلے ریاستی درجے کی بحالی ہونی چاہئے جس میں گورنر ہو نہ کہ لیفٹیننٹ گورنر۔ان کا کہنا تھاکہ ہم نے کشمیری پنڈتوں کی واپسی کی بات کی اور یہاں زمین اور نوکریاں یہاں کے لوگوں کے لئے ہی محفوظ رہنے کی بھی بات کی۔ سابق وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد نے کہا کہ ہم نے سیاسی قیدیوں کی رہائی کی بات کی جس پر وزیر داخلہ نے بتایا کہ کئی ہزار بند تھے، قیدیوں کو وقت وقت پر رہا کیا گیا ہے اور جو ابھی بھی بند ہیں، ان پر بھی نظر ثانی کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ میٹنگ کے دوران سبھی لیڈروں نے، کسی نے انگریزی میں، کسی نے ہندی میں تو کسی نے اُردو میں، ان ہی معاملات کے آس پاس بات کی۔










