Mustafa kamal kashmir

5اگست2019سے لیکر آج تک تینوں خطوں کے عوام کی ناراضگی میں کوئی کمی نہیں آئی: ڈاکٹر کمال

سری نگر//جموں وکشمیرنیشنل کانفرنس کے معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ نئی دلی کب تک جموں وکشمیر سے متعلق غلط بیانی سے کام لیکر ملک کے عوام کو گمراہ کرتی رہے گی؟ آخری یہ جھوٹا پروپیگنڈا کب تک جاری رکھا جائے گا؟ پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر کمال نے کہا کہ پارلیمنٹ سے لیکر دیگر ایوانوں میں جموں وکشمیر کی صورتحال سے متعلق حکمران جماعت کے لیڈران اور وزراء جو دعوے کرتے ہیں وہ زمینی صورتحال کے عین برعکس ہے۔ مرکزی حکومت مسلسل گذشتہ3سال سے جھوٹا بیانیہ بنانے کی کوششوں میںمصروف ہے اور اس کیلئے مرکزی اور مقامی سطح پر زر کثیر خرچ کیا جارہا ہے لیکن تینوں خطوں کے عوام میں پائی جارہی ناراضگی، غم وغصہ اور احساسِ بیگانگی میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے بلکہ لوگوں میں نئی دلی کو لیکر بداعتمادی بڑھتی ہی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموںوکشمیرمیں 5اگست 2019 سے لیکر آج تک اس غیر یقینیت کے ماحول میں کوئی کمی واقعی نہیں ہوئی ہے بلکہ اس میں روز بہ روز اضافہ ہوتا جارہاہے۔ پوری وادی کو فوجی چھاونی میں تبدیل کردیا گیاہے ، ہر سڑک، ہر چوراہے ، ہر گلی اورہر نکڑ پر فورسز کی تعیناتی، ناکے اور بنکر قائم کئے گئے ۔ یہاں کی سیکورٹی صورتحال ہر گزرتے دن کیساتھ بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے۔ ملی ٹنسی کے ایک دو واقعات روز کا معمول بن گیا ہے جبکہ حکومتی سطح حالات میں سدھار کے آئے روز دعوے ذرائع ابلاغ میں پڑھنے ، دیکھنے اور سننے میں ملتے ہیں۔ ڈاکٹر کمال نے کہا کہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ مرکزی حکومت نے دفعہ370اور 35اے کا خاتمہ کرکے جموںوکشمیر کو اندھیروں میں دھکیل دیاہے۔ نہ جمہوریت ہے نہ اظہارِ رائے کی آزادی، نہ تعمیر و ترقی ہے نہ ہی خوشحالی،نہ امن و امان اور نہ ہی سیکورٹی صورتحال بہتر ہوئی ہے نیز جموں و کشمیر سے متعلق کئے جارہے تمام دعوے جھوٹ اور فریب پر مبنی ہے۔ ڈاکٹر کمال نے کہاکہ مرکزی حکومت جتنی جلد جموںو کشمیر سے متعلق اپنی غیر سنجیدہ اور غیر دانشمندانہ پالیسی ترک کرے اُتنا ہی جموںوکشمیر اورملک کیساتھ بہتر ہوگا۔