سری نگر/ /4روزہ عوامی نقل وحمل ،کاروباری سرگرمیوں اورگاڑیوں کی آزادانہ آمدورفت کے بعدجمعہ کے روز شہرسری نگرسمیت وادی کے اطراف واکناف میں مکمل لاک ڈائون نافذ رہا جواتوارکی شام تک جاری رہے گا۔اس دوران شہروقصبہ جات کے بازاروں میں پھرسناٹا چھایا رہا جبکہ شاہراہوں ،سڑکوں اورلنک روڑس سے پبلک ٹرانسپورٹ غائب رہاتاہم نجی گاڑیاں کم قلیل تعدادمیں رواں دواں نظرآئیں۔کشمیرنیوز سروس کے مطابق وادی کشمیر میں جمعے کے روز ایک بار پھر مکمل لاک ڈاؤن نافذ رہا جس کی وجہ سے معمولات زندگی درہم وبرہم ہو کر رہ گئے۔وادی میں گذشتہ جمعے کو بھی مکمل لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا تھا بظاہر یہ لاک ڈاؤن نماز جمعہ کے اجتماعات کے پیش نظر نافذ کیا جاتا ہے تاکہ لوگ ایک ہی جگہ پر بڑی تعداد میں جمع نہ ہو سکیں۔کورونا کی دوسری لہر میں کمی واقع ہونے کے ساتھ ہی جموں و کشمیر انتظامیہ نے یونین ٹریٹری کے سبھی 20 اضلاع میں نافذ کورونا کرفیو میں 31 مئی کو نرمی کی تھی تاہم شبانہ اور ’ویک اینڈ‘کورونا کرفیو بدستور نافذ ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ وادی کے سبھی10 اضلاع میں جمعے کو ایک بار پھر لوگوں کی نقل و حمل کو محدود کرنے کے لئے پابندیاں عائد رہیں جس سے معمولات زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے۔ جمعے کی صبح سری نگر کے مختلف علاقوںمیں واقع بازاروں میں الو بول رہے ہیں تاہم سڑکوں پر ٹرانسپورٹ کی جزوی نقل وحمل جاری تھی۔شہرسری نگرکے بعض علاقوں میں سڑکوں پر بریکیڈس لگا دئے گئے ہیں اور سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری کو بھی تعینات کیا گیا ہے۔سیول لائنز میں ہری سنگھ ہائی سٹریٹ کو لالچوک کے ساتھ جوڑنے والے امیرا کدل کو دونوں طرف بند کر دیا گیا ۔اس دوران سری نگر کی کسی بھی جامع مسجد بشمول نوہٹہ میں واقع تاریخی جامع مسجد اور درگاہ حضرت بل میں بھی نماز جمعہ ادا نہیں کی گئی۔ اگر چہ کچھ جامع مساجد میں اذان دی گئی لیکن باجماعت نماز جمعہ ادا نہیں کی گئی۔ادھر وادی کے دیگر9 اضلاع بشمول گاندربل ،بڈگام ،بارہمولہ ،بانڈی پورہ ،کپوارہ،اننت ناگ ،پلوامہ ،شوپیان اورکولگام میں بھی جمعے کو ایک بار پھر مکمل لاک ڈاؤن نافذ رہا جس کی وجہ سے سبھی اضلاع کے قصبہ جات اوردوسرے علاقوں میں معمولات زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے۔سبھی اضلاع میں چارروزہ عوامی نقل وحمل اورکاروباری سرگرمیوں کے بعدجمعہ کوسبھی چھوٹے بازاروں میں واقع دکانات ،دیگرکاروباری مراکز اورنجی دفاتر بھی بندرہے ۔اس دوران ضلع صدر مقامات میں واقع کسی بھی جامع مسجد میں نماز جمعہ ادا نہیں کی گئی تاہم دور افتادہ علاقوں میں کہیں کہیں احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہونے کے ساتھ نماز جمعہ ادا کی گئی تاہم بہت کم تعدادمیں لوگ مساجدمیں جمع ہوئے ۔(کے این ایس)










