4روزہ دورہ جموں وکشمیرکے بعد حدبندی کمیشن نے کیاڈرافٹ رپورٹ مرتب کرنے کاکام شروع

سری نگر//جموں وکشمیرمیں اسمبلی حلقوں کی سرنو حدبندی اورممکنہ طورپرکچھ اسمبلی حلقوں کو مخصوص طبقوں کیلئے رکھے جانے کیلئے قائم حدبندی کمیشن نے حالیہ4 دورہ جموں وکشمیر کے بعدڈرافٹ رپورٹ مرتب کرنے کاکام شروع کردیا ہے ،جس کوعوامی ڈومین میں جاری کرنے سے قبل کمیشن کے سارے ممبران کے ساتھ شیئرکیا جارہاہے ۔کشمیرنیوزسروس کو معلوم ہواکہ ڈرافٹ رپورٹ کے بارے میں ممبران ،سیاسی جماعتوں اورعام لوگوںکی رائے بشمول اعتراضات حاصل کرنے کے بعدحدبندی کمیشن پھرایک مرتبہ جموں وکشمیر کادورہ کرے گا۔خیال رہے حدبندی کمیشن کاقیام مارچ2020میں عمل میں لایاگیا تھا،اورمارچ2021میں اسکو اپنی رپورٹ پیش کرنا تھی لیکن کام مکمل نہ ہونے کے بعدکمیشن کے معیادکارمیں ایک سال کی توسیع کی گئی ،جسکی رئوسے اب کمیشن ھٰذامارچ2022تک اپنی رپورٹ پیش کرنے کاپابند ہے ۔ایک میڈیا رپورٹ میں ذرائع کاحوالہ دیتے ہوئے بتایاگیاکہ سپریم کورٹ کی ایک ریٹائرڈ خاتون جج رنجناپرکاش ڈیسائی کی سربراہی میںقائم حدبندی کمیشن نے 6سے9جولائی تک جموں وکشمیرکاچارروزہ دورہ کرنے کے بعداب اسمبلی حلقوں کی سرنوحدبندی سے متعلق اپنی ڈرافٹ رپورٹ مرتب کرنے کاکام شروع کردیاہے ،تاکہ اس رپورٹ کوجلد سے جلد عوامی ڈومین Public -Domainمیں ڈالکراسبارے میں عوام کی رائے یااعتراضات کی جانکاری لی جائے ۔خیال رہے ڈرافٹ رپورٹ کوعوامی ڈومین سے رکھنے سے پہلے اس کوکمیشن کے سبھی ممبران، جس میں نیشنل کانفرنس کے3 لوک سبھا ممبران فاروق عبد اللہ، حسنین مسعودی اور اکبر لون کے علاوہ بی جے پی کے جتیندر سنگھ اور جگل کشور شرما بھی شامل ہیں، کیساتھ شیئرکیا جائیگا ۔غورطلب ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ماہ جون2021میں جموں و کشمیر کی مرکزی دھارے میں شامل سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ اپنی نوعیت کی پہلی اوراہم ترین کل جماعتی میٹنگمیں زور دے کر کہا تھا کہ حد بندی کی مشق جلد مکمل ہونی چاہیے تاکہ جموں وکشمیرمیں اسمبلی انتخابات ہوسکیں۔اس میٹنگ کے بعدحدبندی کمیشن کی چیئرپرسن ریٹائرڈ خاتون جج رنجناپرکاش ڈیسائی کی سربراہی میںکمیشن کی ایک 5رکنی اعلیٰ سطحی ٹیم نے جموں وکشمیرکاچارروزہ دورہ کیا ،اوریہاں 6سے9جولائی تک قیام کے دوران حدبندی کمیشن کے اراکین نے سری نگر ،پہلگام،جموں اورکشتواڑ میں سبھی20ڈپٹی کمشنروں کیساتھ میٹنگوں کیساتھ ساتھ مختلف سیاسی پارٹیوں کے 800 نمائندوں اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے تقریباً 290 وفودکیساتھ بھی ملاقاتیں کیں ۔ادھر میڈیا رپورٹ میں مزیدبتایا گیاکہ حدبندی کمیشن اپناکام جلد سے جلد مکمل کرنے کیلئے کوشاں ہے تاکہ جموں وکشمیرمیں اسمبلی انتخابات کیلئے راہ ہموار ہوسکے ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق اسبات کی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ اگلے6 ماہ میں جموں وکشمیرمیں اسمبلی الیکشن ہوسکتی ہیں ،اوراسے پہلے حدبندی کی مشق کوپورا کیا جائیگا۔ حدبندی کمیشن کے پاس اگلے سال 6 مارچ تک کا وقت ہے تاکہ وہ اسمبلی حلقوںکی حدود کو ازسر نو تعین کرے اور نئی حلقہ بندیاں تشکیل دے۔جبکہ کمیشن کویہ ذمہ داری بھی دی گئی ہے کہ وہ مختلف طبقوں کیلئے بھی جموں وکشمیرمیں کچھ اسمبلی حلقوںکومخصوص رکھے تاکہ نئی اسمبلی میں ایسے طبقوںکوبھی نمائندگی کاموقعہ مل سکے ۔خیال رہے حد بندی مشق مکمل ہونے کے بعد جموں و کشمیر میں اسمبلی نشستوں کی تعداد 83 سے بڑھ کر 90 ہو جائے گی۔تاہم ساتوں نئے اسمبلی حلقے جموں صوبے میں شیڈولڈ ٹرائب اورشیڈولڈکاسٹ طبقوں کیلئے ہونگے ۔