سیاحوں کی آمد 1.78 کروڑ تک گر گئی، سکیورٹی صورتحال اور قدرتی آفات اثر انداز
سرینگر// یو این ایس// جموں و کشمیر میں تین مسلسل برسوں کی نمایاں ترقی کے بعد سال 2025 میں سیاحت میں کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے دوران یونین ٹیریٹری میں مجموعی طور پر 1.78 کروڑ سیاحوں کی آمد درج ہوئی۔ یہ کمی 2024 میں حاصل ہونے والی ریکارڈ سطح کے بعد ایک واضح پسپائی کی علامت ہے۔یو این ایس کے مطابق سروے میں بتایا گیا ہے کہ 2025 کے دوران پیش آنے والے متعدد غیر معمولی واقعات نے سیاحتی سرگرمیوں کو متاثر کیا۔ ان میں پہلگام حملہ، جنگ جیسی صورتحال اور بعد ازاں سیلاب شامل ہیں، جن کے باعث سفر پر منفی اثر پڑا اور سیاحوں کی آمد میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔جموں و کشمیر میں سیاحت نے 2021 کے بعد مسلسل بحالی کا مظاہرہ کیا تھا۔ سیاحوں کی آمد 2021 میں 1.13 کروڑ سے بڑھ کر 2022 میں 1.88 کروڑ اور 2023 میں 2.11 کروڑ تک پہنچی۔ یہ بڑھتا ہوا رجحان 2024 میں اپنے عروج پر تھا، جب یونین ٹیریٹری میں 2.36 کروڑ سیاحوں کی آمد ریکارڈ کی گئی، جو حالیہ برسوں کی بلند ترین سطح ہے۔اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں جموں میں 2.00 کروڑ جبکہ کشمیر میں 34.98 لاکھ سیاحوں نے آمد درج کرائی، جس سے مجموعی تعداد تقریباً 2.35 کروڑ رہی۔ تاہم 2025 میں یہ تعداد گھٹ کر جموں میں 1.62 کروڑ اور کشمیر میں 11.16 لاکھ رہ گئی، جس سے مجموعی سیاحتی آمد 1.77 کروڑ تک محدود ہو گئی۔سیاحت میں اس کمی کے اثرات براہ راست آن افراد کے روزگار پر پڑے ہیں جو اس شعبے سے وابستہ ہیں، خصوصاً کشمیر میں شکارا مالکان، ہوٹل انڈسٹری اور چھوٹے کاروباروں کو بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔یو این ایس کے مطابق اقتصادی سروے کے پانچ سالہ تجزیے سے واضح ہوتا ہے کہ اگرچہ 2021 سے 2024 کے دوران سیاحت نے غیر معمولی استقامت اور ترقی کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا، تاہم یہ شعبہ اب بھی سکیورٹی صورتحال اور قدرتی ا?فات کے حوالے سے نہایت حساس ہے۔ 2025 کی گراوٹ، وبا کے بعد کے بحالی دور کے بالکل برعکس تصویر پیش کرتی ہے۔سروے میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ سیاحت جموں و کشمیر کی معیشت میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے، اور اس شعبے کی پائیدار ترقی کے لیے استحکام، انفراسٹرکچر کی بہتری اور قدرتی ا?فات سے نمٹنے کی مو?ثر حکمت عملی ناگزیر ہے۔










