3 برسوں میں 10 ہزار سے زائد اسامیاں مشتہر

3 برسوں میں 10 ہزار سے زائد اسامیاں مشتہر

بھرتی عمل جاری، تاخیر کی وجہ مقدمات اور اہلیتی مسائل// حکومت

سرینگر/ یو این ایس// جموں و کشمیر حکومت نے بتایا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران بڑی بھرتی ایجنسیوں کے ذریعے 10 ہزار 600 سے زائد اسامیاں مشتہر کی گئی ہیں، جن میں سے بیشتر کے انتخابی مراحل مختلف سطحوں پر جاری ہیں۔ حکومت نے بعض معاملات میں تاخیر کی وجہ عدالتی مقدمات، اہلیت سے متعلق وضاحتیں اور انتظامی عمل کو قرار دیا ہے۔ایک غیر ستارہ شدہ سوال کے جواب میں حکومت نے کہا کہ جموں و کشمیر پبلک سروس کمیشن (جے کے پی ایس سی) نے سال 2023 میں 21 جبکہ 2024 میں 7 بھرتی نوٹیفکیشنیںجاری کیے، اور زیادہ تر اسامیوں پر تقرری کا عمل طے شدہ شیڈول کے مطابق جاری ہے۔یو این ایس کے مطابق حکومت کے مطابق 2024-25کے دوران حوالہ کی گئی 1,437 اسامیاں اس وقت زیر عمل ہیں اور توقع ہے کہ ان کی تکمیل 2026 کے دوران ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ 1,655 اسامیاں کمیشن کے زیر غور ہیں، جن میں سے 218 اسامیاں عدالتی مقدمات، محکمانہ وضاحتوں اور نصاب کی منظوری جیسے مسائل کی وجہ سے زیر التوا ہیں۔حکام نے کہا کہ عمومی طور پر کسی بھی اسامی کی بھرتی کا عمل سفارش موصول ہونے کے بعد دو برس کے اندر مکمل کیا جاتا ہے، جسے معقول مدت قرار دیا گیا ہے۔جموں و کشمیر سروسز سلیکشن بورڈ (جے کے ایس ایس بی) کے حوالے سے بتایا گیا کہ گزشتہ تین برسوں میں 10,642 اسامیاں مشتہر کی گئیں، جن میں سے 4,294 پر تقرری مکمل ہو چکی ہے، جبکہ 1,163 اسامیاں ابھی اشتہار کے مرحلے میں ہیں۔ مزید 811 اسامیاں عبوری سلیکشن لسٹ کے مرحلے میں، 4,307 امتحانی مرحلے میں اور 49 حتمی انتخاب کے قریب ہیں، جبکہ 18 اسامیاں واپس لی گئی ہیں۔حکومت نے کہا کہ اہم زمروں میں بھرتی کا عمل جاری ہے، جن میں محکمہ داخلہ کے تحت 2024 میں مشتہر 4,002 کانسٹیبل اسامیوں میں سے 3,980 پر پیش رفت ہوئی ہے، جبکہ صرف 22 اسامیاں باقی ہیں۔ اسی طرح سب انسپکٹر کی 669 اسامیوں پر بھرتی عدالتی مقدمے کے باعث تاخیر کا شکار ہوئی، تاہم اب امتحان جون 2026 میں منعقد ہوگا۔مزید فائنانس اکاؤنٹس اسسٹنٹ کی 600 اسامیوں کے امتحانات بھی جون 2026 میں متوقع ہیں، جبکہ نائب تحصیلدار کی 75 اسامیوں پر بھرتی مرکزی انتظامی ٹریبونل کی جانب سے جاری اسٹیٹس کو احکامات کے باعث شروع نہیں ہو سکی۔حکومت نے بتایا کہ 2023 کی دو نوٹیفکیشنز سے متعلق 141 اسامیاں ابھی زیر التوا ہیں، جہاں تاخیر کی بڑی وجہ تعلیمی قابلیت کے مساوی ہونے سے متعلق مسائل ہیں۔احتساب کے حوالے سے حکومت نے کہا کہ کسی افسر کے خلاف تادیبی کارروائی نہیں کی گئی، کیونکہ تاخیر زیادہ تر قانونی اور طریقہ کار سے جڑی ہوئی ہے، جس میں شفافیت، دستاویزات کی تصدیق اور قانونی تقاضوں کو یقینی بنانا شامل ہے۔حکومت نے مزید کہا کہ بھرتی کے عمل کو تیز اور مؤثر بنانے کے لیے امتحانی شیڈول کو منظم کیا جا رہا ہے، ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھایا گیا ہے اور عملے کو مضبوط کیا جا رہا ہے تاکہ آئندہ بھرتیوں میں تیزی لائی جا سکے۔