مستحقین کی فہرست کی جانچ، غیر اہل اور ڈپلیکیٹ اندراجات حذف کرنے کی مہم
سرینگر/یو این ایس// جموں و کشمیر حکومت نے مالی سال 2025-26کے دوران مجموعی طور پر 2,671 راشن کارڈ منسوخ کیے ہیں، جن میں سے اکثریت جموں ڈویڑن میں سامنے آئی ہے، جہاں 2,154 کارڈ حذف کیے گئے، جبکہ کشمیر ڈویڑن میں یہ تعداد 517 رہی۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں ڈویڑن میں ضلع جموں سب سے زیادہ متاثر رہا، جہاں 580 راشن کارڈ منسوخ کیے گئے۔ اس کے بعد ڈوڈہ میں 254، راجوری میں 223، رام بن میں 170 اور پونچھ میں 140 کارڈز منسوخ کیے گئے۔ کٹھوعہ، ادھم پور، سانبہ اور کشتواڑ سمیت دیگر اضلاع میں بھی اس مہم کے تحت بڑی تعداد میں کارڈز حذف کیے گئے۔یو این ایس کے مطابق کشمیر ڈویڑن میں بارہمولہ سب سے زیادہ متاثرہ ضلع رہا جہاں 342 راشن کارڈ منسوخ کیے گئے، جو ڈویڑن کی مجموعی تعداد کا بڑا حصہ ہے۔ اس کے علاوہ کپواڑہ میں 63، اننت ناگ میں 39 اور سری نگر میں 19 کارڈز منسوخ کیے گئے، جبکہ پلوامہ اور دیگر اضلاع میں یہ تعداد نسبتاً کم رہی۔حکام کے مطابق یہ منسوخیاں مختلف زمروں بشمول انتودیہ انا یوجنا ترجیحی گھریلو اور غیر ترجیحی گھریلو میں کی گئی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جانچ کا عمل پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم کے تمام طبقات تک پھیلا ہوا تھا۔افسران نے بتایا کہ یہ اقدام مستحقین کی فہرست کو شفاف بنانے، غیر اہل افراد، ڈپلیکیٹ اندراجات اور پرانے ریکارڈ کو حذف کرنے کے لیے جاری مہم کا حصہ ہے، تاکہ سبسڈی کا فائدہ صرف حقیقی مستحقین تک پہنچ سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ مختلف اضلاع میں وقتاً فوقتاً ویریفکیشن مہم جاری رہے گی تاکہ پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم کو مزید مؤثر اور شفاف بنایا جا سکے۔یو این ایس کے مطابق حکومت نے اعلان کیا ہے کہ یونین ٹیریٹری بھر میں مجموعی طور پر 14,40,473 ترجیحی گھریلو راشن کارڈ ہولڈرز کا اندراج کیا جا چکا ہے۔قانون ساز اسمبلی میں ایک ستارہ سوال کے جواب میں حکومت نے بتایا کہ تمام اہل مستحقین کو راشن کارڈ ڈیٹا بیس میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ راشن کارڈز کی اپڈیٹ اور حذف کا عمل تصدیق اور اہلیت کے اصولوں کے مطابق مسلسل جاری ہے۔حکام کے مطابق مستحقین کی نشاندہی مردم شماری 2011 کے اعداد و شمار اور حکومت ہند کی جانب سے مقرر کردہ اہداف کی بنیاد پر کی جاتی ہے، جبکہ نئے اہل خاندانوں کو نظرثانی شدہ اہداف کے تحت شامل کیا جاتا ہے۔معاشی طور پر کمزور طبقات کی مدد کیلئے حکومت نے انتودیہ انا یوجنا راشن کارڈ ہولڈرز کو سالانہ تین مفت ایل پی جی سلنڈر فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ مستقبل میں وسائل کی دستیابی کے مطابق اس سہولت میں اضافہ کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔حکومت نے مزید بتایا کہ اپریل 2025 سے جموں ڈویڑن میں اے وائی وائی خاندانوں کیلئے ماہانہ 10 کلوگرام اضافی مفت غذائی اجناس فراہم کرنے کی نئی اسکیم شروع کی گئی ہے۔ یہ اسکیم چار یا اس سے زیادہ افراد پر مشتمل خاندانوں کیلئے ہے اور اس وقت ڈویڑن کے تمام اضلاع میں نافذ ہے، جس سے 37,412 خاندان مستفید ہو رہے ہیں۔فیئر پرائس شاپس کے حوالے سے حکومت نے کہا کہ راجوری حلقے میں 94 ایف پی ایس دکانیں فعال ہیں۔ مزید ایف پی ایس یونٹس کے قیام پر فیصلہ اسمارٹ پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم کے مکمل استحکام کے بعد کیا جائے گا۔حکام کے مطابق راشن کارڈ مینجمنٹ، سپلائی چین مینجمنٹ اور ای-کے وائی سی جیسے اہم نظام پہلے ہی نافذ کیے جا چکے ہیں، جبکہ شکایات کے ازالے کے نظام اور پوائنٹ آف سیل ڈیوائسز کی اپ گریڈیشن پر کام جاری ہے۔حکومت نے واضح کیا کہ پورے یونین ٹیریٹری میں ایف پی ایس نیٹ ورک کی توسیع سے قبل عوامی نمائندوں سے مشاورت کی جائے گی۔










