جموں و کشمیر ہائی کورٹ کا مرکز کو جواب داخل کرنے کیلئے مزید وقت
سرینگر//یو این ایس// جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے کشمیر سے متعلق 25 کتابوں کی ضبطی کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر مرکزی حکومت کو جواب داخل کرنے کیلئے ایک ماہ سے زائد اضافی مہلت دے دی ہے۔یو این ایس کے مطابق 11 فروری کو جاری اپنے حکم نامے میں عدالت نے نشاندہی کی کہ ایک فریق کی جانب سے تاحال اعتراضات داخل نہیں کیے گئے ہیں۔ اس معاملے کی سماعت چیف جسٹس ارون پلی، جسٹس راجنیش اوسوال اور جسٹس شہزاد عظیم پر مشتمل بنچ نے کی۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ اگرچہ جموں و کشمیر انتظامیہ اپنی جانب سے جواب داخل کر چکی ہے اور عرضی گزاروں نے بھی جوابی تحریر جمع کرا دی ہے، تاہم فریق نمبر تین یعنی حکومتِ ہند نے دی گئی مہلت کے باوجود اپنا جواب داخل نہیں کیا۔ بنچ نے کہا کہ مزید تاخیر کا کوئی خاص جواز نہیں بنتا، تاہم مرکز کے سینئر وکیل کی درخواست کو قبول کرتے ہوئے انہیں اگلی سماعت سے قبل اعتراضات داخل کرنے اور اس کی ایڈوانس کاپی عرضی گزاروں کے وکیل کو فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی۔عدالت نے اس معاملے کی آئندہ سماعت 25 مارچ 2026 کو مقرر کی ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں بھی ہائی کورٹ نے سماعت اس بنیاد پر ملتوی کی تھی کہ جموں و کشمیر حکومت اور مرکزی حکومت دونوں نے خاطر خواہ مواقع ملنے کے باوجود اعتراضات داخل نہیں کیے تھے۔یہ عرضیاں جموں و کشمیر حکومت کے محکمہ داخلہ کی جانب سے 5 اگست 2025 کو جاری کردہ نوٹیفکیشن کی قانونی اور آئینی حیثیت کو چیلنج کرتی ہیں، جو سرکاری گزٹ میں شائع ہوا تھا۔ مذکورہ نوٹیفکیشن کے تحت 25 کتابوں کو اس بنیاد پر ضبط قرار دیا گیا کہ ان میں موجود مواد ‘‘ریاست کی سلامتی اور عوامی نظم و نسق کیلئے مضر’’ ہے۔ضبط کی گئی کتابوں میں معروف مصنفین اروندھتی رائے، اے جی نورانی، سمنتر بوس، ڈیوڈ دیوداس اور انوراڈھا بھاسن کی تصانیف شامل ہیں۔ اس فہرست میں اسلامی اسکالرز حسن البنّا اور ابوالاعلیٰ مودودی کی کتابیں بھی شامل کی گئی ہیں۔یہ عرضیاں ریٹائرڈ ایئر وائس مارشل کپل کاک، وجاہت حبیب اللہ، ڈاکٹر سمنتر بوس، ڈیوڈ دیوداس، شاکر شبیر اور دیگر کی جانب سے دائر کی گئی ہیں۔ عرضی گزاروں کا موقف ہے کہ مذکورہ نوٹیفکیشن قانونی تقاضوں اور آئینی ضمانتوں کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے جاری کیا گیا ہے۔










