سری نگر//4،اگست 2019کوتشکیل دئیے گئے نصف درجن سیاسی جماعتوں کے مشترکہ فورم ’ پیپلز الائنس برائے گپکار اعلامیہ ‘ نے منگل کے روز اعلان کیاکہ PAGDکاسہ رکنی اعلیٰ سطحی وفد 24جون کووزیراعظم مودی کی زیرصدارت منعقد ہونے والے کل جماعتی اجلاس میں شرکت کیلئے نئی دہلی جائے گا۔نیشنل کانفرنس وپی اے جی ڈی کے صدر ڈاکٹرفاروق عبداللہ کے علاوہ وفد میں پی ڈی پی صدرمحبوبہ مفتی اورسی پی آئی ایم کے سینئرلیڈرمحمدیوسف تاریگامی بھی شامل ہونگے ۔ جے کے این ایس کے مطابق پیپلز الائنس برائے گپکار اعلامیہ نامی مشترکہ فورم میں شامل پارٹیوں کے سینئرلیڈروں ونمائندوں کی ایک اہم میٹنگ منگل کی صبح ڈاکٹرفاروق عبداللہ کی رہائش گاہ واقع گپکار روڑ پرمنعقد ہوئی ،جس میں محبوبہ مفتی ،محمدیوسف تاریگامی ،مظفرشاہ اورڈاکٹر محبوب بیگ کے علاوہ دیگر کچھ لیڈران بھی موجودتھے ۔میٹنگ کے بعدیہاں موجود میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ اوردیگر لیڈروں نے کہاکہ 24جون کونئی دہلی میں منعقد ہونے والی کل جماعتی میٹنگ میں شرکت کیلئے ہمیں وزیر اعظم کی طرف سے دعوت نامہ موصول ہوا ہے اور ہم اس میٹنگ میں شرکت کرنے جارہے ہیں۔ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ ہم وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کے سامنے اپنا مؤقف رکھیں گے۔انہوں نے نامہ نگاروںسے مخاطب ہوکر کہا کہ جب دہلی میٹنگ ختم ہوجائے گی ، ہم آپ کوبتائیں گے کہ وہاں پر کیا کیا ہوا ، ہم نے کیا کہا اور کیاوہاں سے کیا جواب دیاگیا۔ڈاکٹر فاروق نے میڈیا نمائندوں کوبتایاکہ ہم میٹنگ میں ہوئی باتوںکے بارے میں آپ کو آگاہ کریں گے۔کل جماعتی اجلاس میں پی اے جی ڈی کی نمائندگی کرنے والوں کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹرفاروق نے کہا کہ وہ خود ، محبوبہ مفتی اور محمدیوسف تاریگامی اجلاس میں شریک ہوں گے۔ایک سوال کاجواب دیتے ہوئے سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہاکہ پی اے جی ڈی کا عوامی موقف جموں و کشمیر کی ’ریاست‘ کے خصوصی درجہ کی بحالی ہے۔اس دوران پی ڈی پی صدروپی اے جی ڈی کی نائب صدرمحبوبہ مفتی نے کہاکہ پہلے یہ تجویز دی گئی تھی کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ مجوزہ کل جماعتی میٹنگ میں پی اے جی ڈی کی نمائندگی کریںگے ۔تاہم اب اسبات پراتفاق رائے ہواکہ جن لیڈروں کومدعوکیا گیاہے ،وہ اس میٹنگ میں شرکت کیلئے نئی دہلی جائیں گے ۔محبوبہ مفتی نے مزیدکہاکہ ہم مذاکرات کیخلاف نہیں ہیں ،میرے والدمرحوم مفتی محمدسعید نے تمام مسائل کوحل کرنے کیلئے ہمیشہ مذاکرات کی وکالت کی ۔محبوبہ مفتی کاکہناتھاکہ نئی دہلی کوبات چیت کیلئے بہتر ماحول تیار کرنے کیلئے سبھی سیاسی نظربندوں کورہاکرنا چاہئے ۔انہوںنے کہاکہ ہم مرکزسے یہ مطالبہ کریں گے کہ جیلوں میں بندپڑے سبھی سیاسی نظربندوں کی رہائی عمل میں لائی جائے ،اورہم یہ مانگ بھی کریں گے کہ مختلف ریاستوں کے جیلوں میں رکھے گئے جموں وکشمیر سے تعلق رکھنے والے قیدیوں کوواپس یہاں کی جیلوں میں منتقل کیاجائے ۔پی اے جی ڈی کے ترجمان محمدیوسف تاریگامی نے کہا کہ اس میں کوئی غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے کہ ہم ان(مرکز) کے طے شدہ ایجنڈے پر دستخط کریں گے۔انہوں نے کہاکہ ہم یہ دیکھنے جا رہے ہیں کہ تجویز کیا ہے۔محمدیوسف تاریگامی نے کہاکہ اگر یہ لوگوں کے مفاد میں ہے تو ہم ہاں کہتے ہیں اور اگر بصورت دیگرہم بڑا ناکریں گے۔’پیپلز الائنس برائے گپکار اعلامیہ ‘ پی اے جی ڈی کے ممبر مظفر شاہ نے یہ بھی اعلان کیا کہ آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35 اے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا جس کو5 اگست2019 کو منسوخ کردیا گیاتھا ۔خیال رہے پیپلز الائنس برائے گپکاراعلامیہ یعنی پی اے جی ڈی جموں وکشمیر کی 6 جماعتوں کا اتحاد ہے ، جس میں نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی بھی شامل ہے۔










