power

2025 میں جموں و کشمیر کا بجلی بحران

95 فیصد بجلی درآمد، 800 میگاواٹ خسارہ؛ حکومت نے سمارٹ میٹر اور اپ گریڈیشن سے بہتری کی کوشش

سرینگر//وی او آئی//سال 2025 کے اختتام پر جموں و کشمیر کا بجلی شعبہ شدید دباؤ کا شکار رہا۔ درآمدات پر بڑھتے انحصار، موسمی غیر یقینی صورتحال اور بوسیدہ ڈھانچے نے بجلی کی فراہمی کو غیر معتبر بنا دیا ہے، جس سے عوامی ناراضگی میں اضافہ ہوا ہے۔ حکام کے مطابق وادی میں اس وقت 95 فیصد سے زائد بجلی درآمد کی جا رہی ہے، جبکہ کل دستیاب بجلی 3100 سے 3200 میگاواٹ ہے۔ اس کے باوجود خطے کو تقریباً 800 میگاواٹ کے خسارے کا سامنا ہے۔ محکمہ پاور ڈویلپمنٹ کے مطابق مقامی پن بجلی پیداوار میں 90 فیصد کمی آئی ہے، جس کے باعث جموں و کشمیر 85 سے 90 فیصد تک کوئلے اور شمسی توانائی پر انحصار کر رہا ہے۔ اگست 2025 میں بجلی کی کمی کے دوران 40 سے 50 فیصد بجلی پاور مارکیٹ سے خریدی گئی۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق آئندہ دس برسوں میں جموں و کشمیر اور لداخ کو 4293 سے 9929 میگاواٹ تک توانائی خسارے کا سامنا ہو سکتا ہے۔ 2034-35 میں کل غیر فراہم شدہ توانائی کا تخمینہ 8730 MU لگایا گیا ہے۔ اسی تناظر میں محکمہ نے صبح و شام کے اوقات میں 20 فیصد اضافی سرچارج کی تجویز دی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق آئندہ نو برسوں میں خطے کو 4625 میگاواٹ اضافی بجلی درکار ہوگی، جبکہ بجلی کی طلب میں 50 فیصد اضافہ متوقع ہے۔ وزارتِ پاور نے وادی میں وولٹیج کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے فوری طور پر ری ایکٹو پاور ڈیوائسز نصب کرنے کی سفارش کی ہے۔ دسمبر 2025 میں جموں و کشمیر اور لداخ کو 34 فیصد بجلی خسارے کا سامنا رہا، جہاں دستیاب بجلی 2460 میگاواٹ تھی جبکہ ضرورت 3737 میگاواٹ تھی۔ وادی میں 500 میگاواٹ کی کمی کے باعث طویل لوڈشیڈنگ ہوئی۔ محکمہ پاور ڈویلپمنٹ اب بھی 41 فیصد سے زائد تکنیکی و تجارتی نقصانات سے دوچار ہے، تاہم گزشتہ پانچ مالی برسوں میں ریونیو وصولی میں 250 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ 2019-20 سے اب تک صارفین سے 16,974 کروڑ روپے وصول کیے گئے ہیں۔