جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں گزشتہ تین برسوں کے دوران 12جنگجو جاں بحق

2020اور2021میں سرحدپارسے دراندازی کی 176کوششیں،31ملی ٹنٹ ہلاکـ:مرکز ی و زارت داخلہ

UAPA میں فی الحال کوئی ترمیم زیر غور نہیں،جموں وکشمیرمیں ایکٹ کے تحت750 افرادگرفتار:وزیر مملکت برائے امورداخلہ

سری نگر//مرکز ی وزارت داخلہ نے منگل کو کہا کہ جموں و کشمیر میں 2020 میں دراندازی کے دوران انکاؤنٹر سمیت جنگجوئیانہ تشدد میں62 سیکورٹی اہلکار اپنی جانیں گنوا بیٹھے اور 106 زخمی ہوئے، جب کہ سال2021میں ایسے واقعات کے دوران42 سیکورٹی اہلکار ہلاک اور 117 زخمی ہوئے۔اس دوران مرکزی وزارت داخلہ نے کہاکہ جموں و کشمیر میں 2020 تک3برسوں میں غیر قانونی سرگرمیاں روک تھام ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت750 افراد کو گرفتار کیا گیا۔جے کے این ا یس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے نے منگل کو لوک سبھا میں کہا کہ گزشتہ2برسوں کے دوران سرحد پار سے جموں و کشمیر میں دراندازی کی176 کوششیں کی گئیں جن میں 31دہشت گرد مارے گئے۔ نتیانند رائے نے کہا کہ سرحد پار سے دہشت گردوں کی دراندازی کی کوششیں بنیادی طور پر جموں و کشمیر میں ہوتی ہیں جو سرحد پار سے دہشت گردانہ تشدد، سپانسرشدہ اور حمایت سے متاثر ہوئے ہیں۔انہوں نے ایک تحریری سوال کے جواب میں کہا کہ دستیاب معلومات کے مطابق 2020 میں دراندازی کی 99 اور 2021 میں77 کوششیں ہوئیں ۔انہوںنے کہاکہ سال2020 میں سرحدپارسے دراندازی کی کوششوں کے دوران 19دہشت گرد مارے گئے اور 2021 میں12 دہشت گرد مارے گئے اور ایک کو گرفتار کیا گیا۔وزیرموصوف نے کہا کہ جموں و کشمیر میں 2020 میں دراندازی کے دوران انکاؤنٹر سمیت جنگجوئیانہ تشدد میں62 سیکورٹی اہلکار اپنی جانیں گنوا بیٹھے اور 106 زخمی ہوئے، جب کہ سال2021میں ایسے واقعات کے دوران42 سیکورٹی اہلکار ہلاک اور 117 زخمی ہوئے۔اس دوران مرکزی وزارت داخلہ نے منگل کو کہاکہ جموں و کشمیر میں 2020 تک3برسوں میں غیر قانونی سرگرمیاں روک تھام ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت750 افراد کو گرفتار کیا گیا۔مرکزی وزارت داخلہ کے وزیر مملکت نتیا نند رائے نے ایک تحریری جواب میں لوک سبھا کو بتایا کہ2020 میں346 افراد کو غیر قانونی سرگرمیاں روک تھام ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت گرفتار کیا گیا جبکہ 2018 اور 2019 میں بالترتیب177 اور 247 افراد کواس ایکٹ کے تحت حراست میں لیاگیا۔ وزیر مملکت برائے امورداخلہ نے رکن پارلیمان دیبیندو ادھیکر کے اس سوال کا منفی میں جواب دیا کہ کیا حکومت کے پاسUAPA قانون میں ترمیم کرنے کی کوئی تجویز بھی ہے تاکہ بقول موصوف معصوم افراد کو ہراساں کرنے سے روکا جا سکے۔مرکزی وزارت داخلہ کے وزیر مملکت نتیا نند رائے نے جواب میں کہاکہ قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے، UAPA میں ہی بنیادی تحفظات سمیت کافی آئینی، ادارہ جاتی اور قانونی تحفظات موجود ہیں۔ وزیر موصوف نے مزید کہاکہ UAPA میں ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے ماضی میں ترمیم کی گئی ہے،اوریہ کہ فی الحالUAPA میں کوئی ترمیم زیر غور نہیں ہے۔