رواں سال15نومبرتک 35سیکورٹی اہلکار اور40عام شہری ہلاک، 86 اہلکاراور72شہری زخمی: وزیر مملکت برائے داخلہ
سری نگر//مرکزی حکومت نے انکشاف کیاکہ جموں و کشمیر میںسال2019سے نومبر2021تک جنگجوئوںنے فوج و سنٹرل آرمڈ پولیس فورسز پر1033 حملے کئے اوران حملوںکے دوران177سیکورٹی اہلکار مارے گئے۔ مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے پہلے روزراجیہ سبھا میں ممبر پارلیمنٹ آنند شرما کے ایک سوال کے جواب میںوزیرمملکت برائے دفاعی امور اجے بھٹ نے کہا کہ2019 میں 594، 2020 میں244 اور نومبر2021 کے وسط تک 195 جنگجوئیانہ حملے ریکارڈ کئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ2019 میںسنٹرل آرمڈ پولیس فورسز سمیت 80 سیکورٹی فورسز کے اہلکارمارے گئے جبکہ سال 2020میں62اور15نومبر2021تک 35سیکورٹی اہلکار جنگجوئیانہ حملوںاورجھڑپوںکے دوران ہلاک ہوئے جبکہ 86سیکورٹی اہلکارزخمی بھی ہوئے۔انہوںنے مزیدجانکاری فراہم کرتے ہوئے ایوان کوبتایاکہ 2017 میں جموں و کشمیر پولیس کے اہلکاروں سمیت سیکورٹی فورسز کے 80 اہلکار مارے گئے جبکہ2018 میں 91، 2019 میں 80، 2020 میں 62 اور نومبر2021تک امسال35اہلکارجنگجوئیانہ حملوں اورجھڑپوںکے دوران مارے گئے۔وزیرمملکت برائے دفاعی امور اجے بھٹ نے کہاکہ سال2017سے نومبر2021تک جموں وکشمیرمیں کل 195عام شہری تشددکے مختلف واقعات کے دوران مارے گئے ،جن میں سے سال2017میں40،سال2018و2019میں 39،39،سال2020میں37اوررواں سال15نومبرتک40شہری مارے گئے اور72دیگرشہری زخمی ہوگئے ۔وزیرمملکت برائے دفاعی امور اجے بھٹ نے یہ بھی کہا کہ کووڈ19 کی وجہ سے 137 فوجی، فضائیہ کے 49 اور بحریہ کے4، اہلکار جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ادھرمرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے نے ایک سوال کے تحریری جواب میں لوک سبھاکوجانکاری فراہم کی کہ15نومبر2021تک 35سیکورٹی اہلکار جنگجوئیانہ حملوںاورجھڑپوںکے دوران ہلاک ہوئے جبکہ 86سیکورٹی اہلکارزخمی بھی ہوئے۔انہوں نے ایوان کویہ بھی بتایاکہ رواں سال15نومبرتک40شہری مارے گئے اور72دیگرشہری زخمی ہوگئے۔ نتیانندرائے نے شہریوں کو انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں سے بچانے کیلئے حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں بھی بتایا۔انہوںنے کہاکہ ان میں دہشت گردوں کے خلاف فعال کارروائیاں، دہشت گردی کے زمینی کارکنوںوحامیوں کی نشاندہی اور گرفتاری، کالعدم تنظیموں کے ارکان کے خلاف کارروائی، ناکے پر رات کی گشت اور چیکنگ کو تیز کرنا، مناسب تعیناتی کے ذریعے سیکورٹی کے انتظامات، سیکورٹی اداروں کے درمیان تال میل میٹنگیں، اعلیٰ سطح کی الرٹنس،ور دہشت گردی کی فنڈنگ کے معاملات میں قانونی کارروائی شامل ہیں۔










