سیلابی تحفظ نظام کی مزید مضبوط ی کیلئے فلڈ مینجمنٹ منصوبوں پر مرحلہ وار عمل درآمد جاری
سرینگر//یو این ایس/ حکومتِ جموں و کشمیر نے 2014 کے تباہ کن سیلاب کے بعد وادی میں فلڈ مینجمنٹ پروگرام کے مختلف مراحل کے تحت 487 کروڑ روپے سے زائد رقم خرچ کی ہے۔ یہ بات محکمہ جل شکتی کے حکام نے بتائی۔حکام کے مطابق یہ سرمایہ پشتوں کی مضبوطی، دریاؤں اور نالوں کی کھدائی، پمپنگ اسٹیشنوں کی بہتری اور سیلابی تحفظ کے بنیادی ڈھانچے کو مستحکم بنانے پر خرچ کیا گیا تاکہ مستقبل میں ممکنہ سیلابی خطرات سے نمٹنے کی تیاری بہتر بنائی جا سکے۔2014 کے سیلاب کے بعد وزارت آبی وسائل نے 18 ستمبر 2014 کو تین رکنی بنیادی گروپ تشکیل دیا تھا تاکہ وادی میں سیلابی انتظام کے لیے لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔ سفارشات کو فوری، قلیل مدتی اور طویل مدتی اقدامات میں تقسیم کیا گیا۔فلڈ مینجمنٹ پروگرام کے پہلے مرحلے کے لیے 399.29 کروڑ روپے منظور کیے گئے تھے، جن میں سے 327.04 کروڑ روپے خرچ ہو چکے ہیں اور بیشتر کام مکمل کیے جا چکے ہیں۔ اس مرحلے کے دوران دریائے جہلم اور فلڈ اسپل چینل کی پانی برداری صلاحیت میں نمایاں اضافہ کیا گیا۔دوسرے مرحلے (حصہ الف) کے تحت مارچ 2022 میں 1,623.43 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی، تاہم اب تک 220.97 کروڑ روپے جاری ہوئے اور 160.563 کروڑ روپے خرچ کیے گئے ہیں، جس کے باعث پیش رفت نسبتاً سست بتائی جا رہی ہے۔یو این ایس کے مطابق فوری اقدامات کے تحت محکمہ نے 4,555 کمزور اور شگاف زدہ مقامات کی بحالی کی، جن میں سے 3,320 مقامات پر عارضی اور 1,235 پر مستقل مرمت کی گئی۔ یہ کام ریاستی آفات ردعمل فنڈ اور دیگر ذرائع سے مکمل کیا گیا۔قلیل مدتی منصوبوں کے تحت جنوبی کشمیر کے سنگم کے مقام پر 60,000 کیوسک کے ممکنہ سیلابی دباؤ سے نمٹنے کے لیے دریائے جہلم اور اس کی معاون ندیوں پر 2,083.90 کروڑ روپے کا جامع منصوبہ 2015 میں وزیر اعظم ترقیاتی پیکیج کے تحت منظور کیا گیا۔پہلے مرحلے کے دوران سری نگر کے حصے میں دریائے جہلم کی محفوظ پانی برداری صلاحیت 31,800 کیوسک سے بڑھا کر 41,000 کیوسک کر دی گئی، جو تقریباً 22 فیصد اضافہ ہے۔ شمالی کشمیر میں شریف آباد اور نادی ہل کے مقامات پر فلڈ اسپل چینل کی رکاوٹیں دور کی گئیں، جس سے اس کی صلاحیت 4,000 سے بڑھ کر 8,700 کیوسک ہو گئی۔دوسرے مرحلے (حصہ الف) میں 31 پشتوں کی حفاظت اور کٹاؤ مخالف کام شامل ہیں جن کی مالیت 276.61 کروڑ روپے ہے، جن میں سے 16 مکمل کیے جا چکے ہیں۔ ہوکرسر ویٹ لینڈ میں دو ریگولیٹری گیٹس بھی 28.45 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل اور فعال کیے گئے ہیں۔حکام نے بتایا کہ فلڈ مینجمنٹ کے یہ کام مرحلہ وار انجام دیے جا رہے ہیں تاکہ وادی میں سیلابی تحفظ کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔










