جموں و کشمیر میں بجلی واجبات 3,747 کروڑ روپے سے تجاوز

1979 کا پنجاب کے ساتھ بجلی کا معاہدہ ایک خود مختار عہد ہے ، اسے مکمل طور پر نافذ کرنا ضروری ہے۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ

جموںوکشمیر کا 20فیصد بجلی کا حصہ اوررنجیت ساگر ڈیم سے متاثر کنبوں کیلئے معاوضہ اور روزگارکے بارے میں دوبارہ زور دیا

جموں// وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر اور پنجاب کی حکومتوں کے درمیان 1979 کا معاہدہ ایک خودمختار عہد ہے جس کا من و عن احترام کیا جانا چاہیے۔اُنہوں نے یہ بات ایوان میں اس وقت کہی جب وہ رنجیت ساگر ڈیم پروجیکٹ سے جموںوکشمیر 20 فیصد بجلی کے حصہ، مقامی لوگوں کے لئے روزگار اور معاوضے کے بارے میں رُکن اسمبلی بسوہلی درشن کمار کے ضمنی سوال کا جواب دے رہے تھے۔وزیر اعلیٰ نے قانون ساز اسمبلی کے جاری بجٹ سیشن کے وقفہ سوالات کے دوران کہا،’’میں اِس معاملے کو حکومت پنجاب کے ساتھ اُٹھاؤں گا اور اَپنے ہم منصب سے بھی بات کروں گا۔ ہم پوری کوشش کریں گے کہ 1979 کا معاہدہ من و عن عملایا جائے۔‘‘وزیر اعلیٰ جن کے پاس محکمہ بجلی کا قلمدان بھی ہیں ، نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے ساتھ بات کریں گے تاکہ یہ واضح کیا جا سکے کہ یہ معاہدہ دونوں حکومتوں کے درمیان ایک لازمی خودمختار عہد کا پابند ہے۔اُنہوں نے ایوان کو بتایا کہ 1979 کے معاہدے کے مطابق جموں و کشمیر کو تھین ڈیم اور شاہپور کنڈی بیراج سے پیدا ہونے والی مجموعی بجلی کا 20 فیصد حصہ بس بار لاگت پر حاصل کرنے کا حق ہے۔ اُنہوں نے مزید بتایا کہ پی ایس پی سی ایل اور جے کے پی سی ایل کے درمیان 11 ؍اکتوبر 2019 ء کو بجلی کی خرید و فروخت کا معاہدہ طے پایا تھا۔ تاہم ،فی الحال ٹرانسمیشن ڈھانچے کی کمی کے باعث جموں و کشمیر کے نظام میں بجلی فراہم نہیں کی جا رہی۔پی ایس پی سی ایل کو قابل ادائیگی عارضی ٹیرف 3.5 روپے فی کلو واٹ ہے۔اُنہوںنے یہ بھی واضح کیا کہ بسوہلی حلقہ کے صارفین کو سبسڈی یا مفت بجلی فراہم کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے جہاں یہ پروجیکٹ واقع ہے۔وزیر اعلیٰ نے متاثرہ کنبوں کے معاوضے کے حوالے سے کہا کہ معاوضے کی کل رقم 85.48 کروڑ ہے جس میں سے 71.15 کروڑ روپے پنجاب حکومت نے جاری کردئیے ہیں جبکہ 14.32 کروڑ روپے ابھی باقی ہیں۔ اُنہوں نے مزید بتایا کہ پہلے جاری شدہ فنڈز پر حاصل ہونے والا 5.41 کروڑ روپے سود ضلع ترقیاتی کمشنر کٹھوعہ نے زمین کے معاوضے کے لئے اِستعمال کیاجس کے بعد بقایا رقم 8.90 کروڑ روپے رہ گئی۔اُنہوں نے مزید بتایا کہ مختلف عدالتی احکامات کے مطابق 1.10 کروڑ روپے ادا کئے جانے ہیںجبکہ 30؍ ستمبر 2025 تک بقایا سود 27.02 کروڑ روپے ہے جس سے کل واجب الادا رقم 37.03 کروڑ روپے بنتی ہے۔ اس کے مقابلے میں 2020 میں 21.08 کروڑ روپے موصول ہوئے جس کے بعد معاوضہ اکاؤنٹ میں 15.94 کروڑ روپے باقی رہ گئے۔ اَب تک 50.51 کروڑ روپے تقسیم کئے جا چکے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے مکمل معاوضہ کی ادائیگی میں تاخیر کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کچھ زمین مالکان کی جانب سے مطلوبہ دستاویزات جمع نہ کروانا ایک بڑی رُکاوٹ ہے۔ ان دستاویزات میں معاوضہ درخواستیں، بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات، پین کارڈ اور آدھار کارڈ شامل ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ ضلع ترقیاتی کمشنر کٹھوعہ نے متعدد عوامی نوٹس جاری کئے ہیں جن میں زمین مالکان سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ مطلوبہ دستاویزات جمع کریں تاکہ معاوضہ بروقت جاری کیا جا سکے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ حکومت اس بات کے لئے پُرعزم ہے کہ تمام اہل استفادہ کنندگان کو ضابطہ جاتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ان کا حق دیا جائے۔وزیراعلیٰ نے روزگار کے حوالے سے کہا کہ 816 متاثرہ کنبوں کو نوکریاں فراہم کرنے کے لئے معاملہ ضلع ترقیاتی کمشنر کتھوعہ کے ذریعے متعلقہ ڈیم حکام کے ساتھ اُٹھایا گیا ہے۔اُنہوں نے مزید بتایا کہ گورنمنٹ آرڈر نمبر 340۔پی ڈبلیو (ایچ وائی ڈِی)بتاریخ 28 ؍ستمبر 2018 کے مطابق بے گھر افراد کو روزگار حکومت پنجاب کی جانب سے دونوں حکومتوں کی متفقہ بحالی و بازآبادکاری پالیسی کے تحت فراہم کیا جائے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ اہل متاثرین کو پالیسی کی دفعات کے مطابق روزگار دیا جائے گا۔