دو بورڈ امتحانات پالیسی پر’ سی بی ایس ای ‘کی وضاحت
سرینگر//یو این ایس// سنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن نے واضح کیا ہے کہ دسویں جماعت کے طلبہ کیلئے پہلے بورڈ امتحان میں شرکت لازمی ہوگی۔ بورڈ کے مطابق جو طلبہ پہلے مرحلے میں کم از کم تین مضامین میں امتحان نہیں دیں گے، انہیں ‘‘ایسنشل ریپیٹ’’ کے زمرے میں رکھا جائے گا۔یو این ایس کے مطابق سی بی ایس ای سال 2026 سے دسویں جماعت کیلئے دو بورڈ امتحانات کا نظام نافذ کر رہا ہے۔ یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی جب بورڈ کو بعض درخواستیں موصول ہوئیں جن میں کہا گیا تھا کہ کچھ وجوہات کی بنا پر طلبہ پہلے بورڈ امتحان میں شریک نہیں ہو پائیں گے، اس لیے انہیں دوسرے بورڈ امتحان میں بیٹھنے کی اجازت دی جائے۔سی بی ایس ای کے کنٹرولر امتحانات سنیَم بھاردواج نے کہا،’’تمام طلبہ کیلئے پہلے بورڈ امتحان میں شرکت کرنا لازمی ہے۔ جو طلبہ کامیاب اور اہل ہوں گے، انہیں سائنس، ریاضی، سماجی سائنس اور زبانوں میں سے کسی بھی تین مضامین میں اپنی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے دوسرے امتحان میں بیٹھنے کی اجازت دی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی طالب علم پہلے امتحان میں تین یا اس سے زیادہ مضامین میں شامل نہیں ہوتا، تو اسے دوسرے بورڈ امتحان میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔بھاردواج نے وضاحت کی’’ایسے طلبہ کو ‘ایسنشل ریپیٹ’ کے زمرے میں رکھا جائے گا اور وہ آئندہ سال فروری میں ہونے والے مرکزی امتحانات میں ہی شرکت کر سکیں گے۔‘‘سی بی ایس ای کی اس وضاحت سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ دو بورڈ امتحانات کی پالیسی میں پہلا امتحان بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور اس میں عدم شرکت کی صورت میں طلبہ کو تعلیمی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔










