10ماہ میں ایک کروڑ 66 لاکھ خواتین نے مفت بس سفرکیا

صنف نازک کی مفت سفری اسکیم پر 47 کروڑ روپے سے زیادہ خرچ

سرینگر// یو این ایس / جموں و کشمیر میں خواتین کے لیے شروع کی گئی مفت بس سفری اسکیم نے اپنے ابتدائی دس ماہ میں بڑے پیمانے پر اثر دکھایا ہے۔ سرکاری دستاوزیات کے مطابق کہ یکم اپریل 2025 سے 31 جنوری 2026 تک ایک کروڑ 66 لاکھ 20 ہزار 262 سے زائد خواتین نے سرکاری بسوں میں بلا معاوضہ سفر کیا، جس کے نتیجے میں اس اسکیم پر 47.42 کروڑ روپے سے زیادہ کا مالی بوجھ پڑا ہے۔ یہ اسکیم وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے مالی سال 2025-26کے اپنے پہلے بجٹ میں متعارف کرائی تھی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، جموں و کشمیر روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے زیرِ انتظام بسوں میں اس عرصے کے دوران 34.95 لاکھ خواتین نے مفت سفر کیا، جس کی وجہ سے کارپوریشن کو 19.96 کروڑ روپے کی آمدنی سے محرومی کا سامنا کرنا پڑا۔اسی مدت میں شہری علاقوں میں چلنے والی اسمارٹ سٹی بسوں کے ذریعے ایک کروڑ 31 لاکھ 25 ہزار 262 خواتین نے مفت سفر کی سہولت حاصل کی، جس پر حکومت کو تقریباً 27.46 کروڑ روپے کا اضافی مالی بوجھ برداشت کرنا پڑا۔یوں کارپوریشن اور اسمارٹ سٹی بسوں کو ملا کر دس ماہ کے دوران مفت سفری سہولت سے فائدہ اٹھانے والی خواتین کی مجموعی تعداد 1.66 کروڑ سے تجاوز کر گئی، جبکہ مجموعی مالی اثر 47 کروڑ روپے سے زیادہ رہا۔حکومت نے مزید بتایا کہ جموں و کشمیر روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے تحت چلنے والی تمام ڈیزل اور الیکٹرک بسیں اس وقت پورے جموں و کشمیر میں خواتین کے لیے مفت سفری اسکیم کے تحت کام کر رہی ہیں۔ یکم اپریل 2025 سے 31 جنوری 2026 تک جموں کشمیر روڑ ٹرانسپورٹ کارپوریشن بسوں میں مفت سفر کے عوض واجب الادا 19.96 کروڑ روپے کی رقم تاحال جاری نہیں کی گئی ہے۔واضح رہے کہ خواتین کے لیے مفت بس سفر کی یہ سہولت یکم اپریل 2025 کو باضابطہ طور پر نافذ کی گئی تھی۔ اس اسکیم کے تحت جموں و کشمیر کی تمام خواتین کو سرکاری پبلک ٹرانسپورٹ، بشمول کارپوریشن اور اسمارٹ سٹی ای بسوں میں بغیر ٹکٹ سفر کی اجازت دی گئی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد خواتین کی نقل و حرکت کو آسان بنانا، انہیں تعلیم، روزگار، صحت اور دیگر بنیادی سہولیات تک رسائی فراہم کرنا اور کرایوں کی وجہ سے درپیش رکاوٹوں کو ختم کرنا ہے۔حکومت نے اس سے قبل یہ بھی واضح کیا تھا کہ اس پالیسی کے تحت ٹرانسپورٹ آپریٹروں کو ہونے والے مالی نقصان کی مناسب تلافی کی جائے گی۔ حالیہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ اس اسکیم نے خواتین کی بڑی تعداد کو فائدہ پہنچایا ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ حکومتی خزانے پر بڑھتے مالی دباؤ نے اس کے طویل المدتی نفاذ اور فنڈنگ کے طریقہ کار پر بھی بحث چھیڑ دی ہے۔