یاترا کی حفاظت پر تعینات سیکورٹی اہلکار، سینٹرل ریزرو پولیس فورس کو ہائی ٹیک آلات سے لیس کیا جار ہا ہے
سرینگر// ماہ جولائی کی 3تاریخ سے شرو ع ہونی والی امرناتھ یاترا کیلئے جہاں سیکورٹی انتظامات کو حمتی شکل دی گئی ہے وہیں یاترا کی تیاریاں زوروں پر ہیں کیونکہ پولیس کے اعلیٰ حکام نے یاترا کو آسانی سے یقینی بنانے کیلئے زمین پر حفاظتی انتظامات کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔سی این آئی کے مطابق اگلے ماہ سے شروع ہونی جار ہی سالانہ امرناتھ یاترا کے پُر امن انعقاد کیلئے خصوصی حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں اور کسی بھی ممکنہ گڑ بڑھ سے نمٹنے کیلئے سیکورٹی فورسز کو چوکس رہنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ ساتھ ہی جموں و کشمیر میں تعینات سیکورٹی اہلکار، خاص طور پر سینٹرل ریزرو پولیس فورس کو پہلی بار ہائی ٹیک آلات سے لیس کیا جار ہا ہے ۔ سیکورٹی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ امرناتھ یاترا کو خوش اسلوبی سے انجام دینے کیلئے پہلے ہی مرکز و جموں کشمیر سرکار متحرک ہے اور اس سلسلے میں اب سیکورٹی کو مزید مضبوط بنانے کیلئے سیکورٹی فورسز کو ہائی ٹیک آلات جن میںخاص طور پر اسرائیلی تیار کردہ آلات شامل ہے سے لیس کیا جا رہا ہے ۔ اس کے علاوہ یاترا کے دوران نگرانی کیلئے ڈرون کی تعداد میں اضافہ کیا جا رہا ہے اور اندازہ لگایا گیا ہے کہ 50 سے زیادہ کا استعمال صرف پہلگام اور باتل تل راستوں پر موجود رہیںگے ۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ اگلے ہفتے کے اندر ملک کے مختلف حصوں سے نیم فوجی دستوں کی کمپنیاں آنا شروع ہو جائیں گی تاکہ موجودہ سکیورٹی فریم ورک کو تقویت ملے۔سی آئی ایس ایف، سی آر پی ایف، آئی ٹی بی پی اور دیگر یونٹوں کے ارکان سمیت 20,000 اضافی سیکورٹی اہلکار جلد ہی ان میں شامل ہوں گے۔ یہ فورسز مختلف اسٹریٹجک مقامات پر تعینات ہونے سے پہلے جموں پولیس کنٹرول کو رپورٹ کریں گی۔حکام نے آنے والی نیم فوجی دستوں کے لیے مخصوص تعیناتی علاقوں کی نشاندہی کا عمل شروع کر دیا ہے۔ یہ اہلکار نہ صرف امرناتھ یاترا کے راستے اور بیس کیمپوں پر بلکہ سرحدی علاقوں میں بھی تعینات ہوں گے تاکہ یاترا کے دوران سرحد پار سے دہشت گردوں کی دراندازی کی ممکنہ کوششوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔علاقے کو محفوظ بنانے کے لیے مقامی پولیس اور نیم فوجی دستوں کی کوششوں کو یکجا کرتے ہوئے ایک مضبوط تین درجے کا سیکیورٹی نظام قائم کیا جائے گا۔ حفاظتی اقدامات میں اضافہ بھیڑ والے علاقوں تک بھی ہو گا تاکہ حاجیوں اور رہائشیوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔










