کولمبو: روایتی حریف پاکستان قومی کرکٹ ٹیم اور بھارت قومی کرکٹ ٹیم کے درمیان اتوار کو کولمبو میں ہونے والے اہم مقابلے سے قبل تمام غیر یقینی صورتحال ختم ہو گئی ہے۔ دونوں ٹیمیں میدان میں آمنے سامنے ہوں گی اور اس ہائی وولٹیج مقابلے کا دنیا بھر کے کروڑوں شائقین کو بے صبری سے انتظار ہے۔ تاہم اس بار مقابلے سے زیادہ توجہ ایک اہم سوال پر مرکوز ہے کہ آیا میچ کے بعد دونوں ٹیموں کے کھلاڑی روایتی انداز میں ایک دوسرے سے ہاتھ ملائیں گے یا نہیں۔
میچ سے قبل ہفتہ کو منعقدہ پریس کانفرنس میں پاکستان کے کپتان سلمان علی آغا سے اس حوالے سے سوال کیا گیا۔ اس پر انہوں نے محتاط انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ مکمل طور پر بھارت پر منحصر ہے کہ وہ کھیل کو کس جذبے کے ساتھ کھیلنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’کرکٹ کو ہمیشہ مثبت اور اسپورٹس مین اسپرٹ کے ساتھ کھیلنا چاہیے۔ میری ذاتی رائے شاید زیادہ اہم نہ ہو، لیکن میرا ماننا ہے کہ کرکٹ ویسے ہی کھیلی جانی چاہیے جیسے ہمیشہ سے کھیلی جاتی رہی ہے۔ اب یہ بھارت کو طے کرنا ہے کہ وہ کیا فیصلہ کرتا ہے‘‘۔
پاکستانی کپتان نے بھارت کے خلاف ٹیم کے ریکارڈ پر بھی بات کی۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ بھارت کے خلاف پاکستان کا حالیہ ریکارڈ زیادہ بہتر نہیں رہا، لیکن انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہر نیا میچ ایک نیا موقع ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ہم ماضی کو تبدیل نہیں کر سکتے، لیکن ہر دن ایک نئی شروعات ہوتی ہے اور ہم مثبت سوچ کے ساتھ میدان میں اتریں گے‘‘۔ دونوں ممالک کے درمیان کرکٹ تعلقات حالیہ مہینوں میں کشیدہ رہے ہیں۔ اپریل میں پہلگام میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات مزید خراب ہو گئے تھے، جس کا اثر کھیلوں پر بھی پڑا۔ ایشیا کپ 2025 کے دوران کھیلے گئے تین میچوں میں بھارتی کھلاڑیوں نے میچ کے بعد پاکستانی کھلاڑیوں سے روایتی ’ہینڈ شیک‘ نہیں کیا تھا، جسے کرکٹ حلقوں میں غیر معمولی قدم قرار دیا گیا تھا۔
یہی صورتحال خواتین اور جونیئر ٹیموں کے مقابلوں میں بھی دیکھنے کو ملی، جہاں ویمنز ورلڈ کپ، انڈر-19 ایشیا کپ اور دیگر ٹورنامنٹس میں بھی دونوں ٹیموں کے درمیان روایتی مصافحہ نہیں ہوا۔ اس کے علاوہ ایک موقع پر بھارتی ٹیم نے ٹرافی وصول کرنے کے معاملے پر بھی غیر معمولی رویہ اختیار کیا تھا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی مزید نمایاں ہو گئی تھی۔ دوسری جانب، اس میچ سے قبل ایک اور تنازع اس وقت سامنے آیا جب پاکستان نے ایک مرحلے پر بھارت کے خلاف میچ کھیلنے سے انکار کر دیا تھا، تاہم انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی مداخلت کے بعد پاکستان نے اپنا فیصلہ واپس لے لیا۔ اب کولمبو میں ہونے والا یہ مقابلہ نہ صرف کھیل کے لحاظ سے اہم ہے بلکہ دونوں ٹیموں کے رویے اور اسپورٹس مین اسپرٹ پر بھی سب کی نظریں مرکوز ہیں۔ شائقین کو امید ہے کہ کرکٹ ایک بار پھر دونوں ممالک کے درمیان مثبت پیغام کا ذریعہ بنے گی۔ بھارت ایکسپریس اردو










