یوکرین میں روسی بمباری کے درمیان جان جوکھم میں ڈال ڈاکومنٹری شوٹ کر رہا اداکار

یوکرین میں روسی بمباری کے درمیان جان جوکھم میں ڈال ڈاکومنٹری شوٹ کر رہا اداکار

یوکرین پر روسی حملے کے بعد لوگ اپنی جان بچانے کے لیے محفوظ مقامات کی طرف بھاگ رہے ہیں، یا پھر انڈرگراؤنڈ جگہوں پر چھپنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں ایک اداکار ایسا ہے جو اپنی جان جوکھم میں ڈال کر روسی حملے کی ڈاکومنٹری بنانے میں مصروف ہے۔ ہم بات کر رہے ہیں امریکہ کے مشہور و معروف اداکار سین پین کی جو اس وقت یوکرین میں ہیں۔ وہ وہاں اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر ڈاکومنٹری پر کام کر رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سین پین موجودہ حالات کو اپنے کیمرے میں شوٹ کر رہے ہیں اور بعد میں وہ اس حملے کی تفصیل لوگوں کے سامنے رکھیں گے۔ جمعرات کو صدر دفتر نے ایک فیس بک پوسٹ میں بتایا ہے کہ سین پین پریس بریفنگ میں شامل ہوئے۔ وہ نائب وزیر اعظم ایرینا ویرشچک سے ملے۔ انھوں نے صحافیوں اور فوجی اہلکاروں سے روسی حملے کے بارے میں بات کی۔ سین پین نے وہ بہادری دکھائی جس کی دوسروں میں، خصوصاً مغربی سیاسی لیڈروں میں کمی ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ سین پین گزشتہ نومبر میں بھی اپنے پروجیکٹ کو لے کر یوکرین میں تھے جسے وائس اسٹوڈیوز کے ذریعہ پروڈیوس کیا جا رہا ہے۔ اس وقت کی تصویریں بتاتی ہیں کہ سین پین نے ڈونیتسک کے پاس یوکرینین آرمڈ فورس کے فرنٹ لائنس کو وزٹ کیا تھا۔ آسکر ایوارڈ یافتہ پین سالوں سے کئی بین الاقوامی انسانی اور جنگ مخالف کوششوں میں شامل رہے ہیں۔ 2010 میں ہیتی میں آئے زلزلہ کے بعد سین نے ایک نان پرافٹ ڈیزاسٹر ریلیز آرگنائزیشن قائم کیا تھا۔ اس کے بارے میں سٹیزن پین ڈاکومنٹری میں بتایا گیا ہے۔ سین امریکی اداکار، ڈائریکٹر، اسکرین رائٹر اور پروڈیوسر ہیں۔ وہ دو اکادمی ایوارڈ فاتح ہیں جو انھیں مسٹری ڈراما ’مسٹک ریور‘ اور بایوپک ’ملک‘ کے لیے ملے تھے۔