یوکرین جنگ میں بطور ’چارہ‘ انسانوں کے استعمال کی مذمت

یوکرین جنگ میں بطور ’چارہ‘ انسانوں کے استعمال کی مذمت

نیروبی/ایجنسیز// کینیا نے منگل کے روز بھرتی ایجنسیوں کے اس “ناقابلِ قبول” عمل کی مذمت کی ہے جو کینیا کے لوگوں کو منافع بخش ملازمتوں کے لالچ میں روس آنے پر راغب کر رہی ہیں جبکہ حقیقت میں انہیں “توپ کے چارے” کے طور پر یوکرین جنگ کی صفِ اول میں بھیج دیا جاتا ہے۔حالیہ ہفتوں میں بڑھتی ہوئی اطلاعات سے پتہ چلتا ہے کہ روس میں زیادہ معاوضے پر کام کے دھوکے میں آ جانے والے کینیا کے لوگ میدان جنگ میں مر رہے ہیں اور دیگر شدید زخموں کا شکار ہیں۔اے ایف پی کی اس ہفتے شائع کردہ تحقیقات سے دھوکہ دہی کے جال کا انکشاف ہوا جس میں چار افراد پھنس گئے جن کا فوجی تعلیم و تربیت کا کوئی پس منظر نہیں تھا۔ وہ روسی فوج کے ساتھ معاہدوں پر دستخط کرنے پر مجبور ہو گئے اور انہیں تیزی سے یوکرین میں اگلے مورچوں پر بھیج دیا گیا۔جونیئر وزیرِ خارجہ کوریر سنگ اوئی نے اے ایف پی کو بتایا، “ان کا اس تنازعہ میں شریک ہونا ناقابلِ قبول ہے۔”
ان چاروں کو جن میں سے تین زخمی ہو کر واپس آئے، کو روسی زبان میں لکھے ہوئے معاہدے دیے گئے۔ایک کو سیلز مین، دو کو سکیورٹی گارڈز اور چوتھے کو ایک اعلیٰ سطحی ایتھلیٹ کے طور پر کام دینے کا کہا گیا۔