انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے برطانوی حکومت اور یورپی یونین پر زور دیا ہے کہ وہ سنکیانگ سے آئے والے ایک اعلیٰ چینی عہدے دار کی تحقیقات کرے اور اس پر مناسب پابندی لگائے۔ سنکیانگ میں چینی کمیونسٹ پارٹی کے ڈپٹی سیکرٹری اور سنکیانگ حکومت کے چیئرمین ایرکن تونیاز اگلے ہفتے لندن اور اس کے بعد 21 فروری کو برسلز میں ہونے والے اجلاسوں میں شرکت کرنے والے ہیں۔ اس موقع پر ،ہیومن رائٹس واچ برطانوی حکومت اور یورپی یونین پر یہ زور دے رہا کہ وہ اعلیٰ چینی عہدے دار کےخلاف تحقیقات کرنے اور پابندیاں لگائیں۔
ہیومن رائٹس واچ نے جمعہ کو اپنے ایک بیان میں کہا کہ سنکیانگ میں ایغوروں اور دیگر ترک مسلمانوں کے خلاف جرائم بڑھ رہے ہیں۔ برطانیہ کے لیے ہیومن رائٹس واچ کی ڈائریکٹر یاسمین احمد کا کہنا تھا کہ برطانیہ اور یورپی یونین کو سنکیانگ کے اعلیٰ حکام کے ساتھ ملاقاتوں میں شریک نہیں ہونا چاہیے تاکہ چین پر ایغور علاقے میں اپنے مظالم ختم کرنے لیے دباؤ پڑ سکے۔
ہومین رائٹس واچ نے کہا ہے کہ اس نے ایغور اور دیگر ترک مسلمانوں کے خلاف بڑے پیمانے پر ہونے والے ک منظم حملوں کے دستاویزی ثبوت حاصل کیے ہیں ، جس سے یہ نشاندہی ہوئی ہے کہ وہاں بڑی تعداد میں مسلمانوں کو جبری اغوا کیا جاتا ہے، انہیں حراست میں رکھ کر ان پر تشددکیا جاتا ہے۔ ان کی آزادیا ں چھین لی گئیں ہیں۔ ہر لمحہ ان کی نگرانی کی جاتی ہے۔ ان پر ثقافتی اور مذہبی پابندیاں عائد ہیں ۔ خاندانوں کو ان کے بچوں سے الگ کردیا جاتا ہے ،اور جو مسلمان فرار ہو کر دوسرے ملکو ں میں چلے گئے ہیں، انہیں وہاں سے زبردستی پکڑ کر چین واپس لایا جاتا ہے ۔اس کے علاوہ ان سے جبری مشقت لی جاتی ہے اور ان پر جنسی تشدد کیا جاتا ہے ۔ان مسلمانوں کوبچے پیدا کرنے کا حق بھی حاصل نہیں ہے اور یہ سب چیزیں انسانیت کے خلاف جرائم کا درجہ رکھتی ہیں۔










