nasir aslam wani

ہوٹلوں سے وابستہ صنعتوں کے لیے کاروبار کرنے میں آسانی

پالسیوں کا جازئہ لینے اور ٹیس و سبسڈی کے فوائد فراہم کرنے کی ضرورت//ناصر اسلم وانی

سرینگر//وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی نے جموں و کشمیر کو ایک ذمہ دار اور پائیدار سیاحتی مقام کے طور پر نئے سرے سے متعارف کرانے کی ضرورت پر زور دیا۔سی آئی آئی جے اینڈ کے کونسل کی جانب سے گپکار، سرینگر میں ہوٹل گولڈن ٹولپ میں منعقدہ سیاحتی سمٹ کے دوران وانی نے کہا’’یہ سمٹ جموں و کشمیر کو ایک پائیدار اور ذمہ دار سیاحتی مقام کے طور پر نئے سرے سے متعارف کرانے کی ایک اہم پیش رفت ہے۔ ہمیں ذمہ دار شہریوں کے طور پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے اور ایسی پروجیکٹوں کی جانب قدم بڑھانا ہوگا جو پائیداری پر مرکوز ہوں، کیونکہ ہم سیاحوں کی بڑی تعداد کی آمد کی تیاری کر رہے ہیں جبکہ حکومت جموں و کشمیر اس سمت میں فعال اقدامات کرے گی۔‘‘ یہ سمٹ ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہوا، جس میں پالیسی سازوں، صنعت کے رہنماؤں اور متعلقین نے جموں و کشمیر میں پائیدار اور ذمہ دار سیاحت کو فروغ دینے کے لیے تبادلہ خیال کیا۔سمٹ میں ناصر اسلم وانی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی، جب کہ وزیر خوراک، سول سپلائی کے وزیر ستیش کمار اور فاروق احمد شاہ، ممبر اسمبلی گلمرگ، موجود تھے۔ اس کے علاوہ کنزرویٹر آف فارسٹ، ایکو ٹورازم عرفان علی شاہ نے ایکو ٹورازم کے اقدامات پر روشنی ڈالی۔ستیش شرما نے جنوری میں آنے والے ٹرین کے افتتاح کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام کشمیر میں سیاحت کو نمایاں طور پر فروغ دے گا۔ انہوں نے سیاحت کے شعبے میں ملوث کمیونٹیوں کو بڑھانے کیلئے رعایت اور ٹیکس فوائد فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور ہوٹلوں سے وابستہ صنعتوں کے لیے کاروبار کرنے میں آسانی کو بہتر بنانے کیلئے موجودہ پالیسیوں کا جائزہ لینے کا مطالبہ کیا۔فاروق احمد شاہ نے سیاحت کی ترقی کے ساتھ ساتھ ثقافتی تحفظ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا، پائیدار سیاحت صرف ایک انتخاب نہیں بلکہ ہماری طرح کے علاقوں کے لیے ایک ضرورت ہے۔‘‘ عرفان علی شاہ نے جموں و کشمیر کے طبی پودوں کی غیر استعمال شدہ صلاحیت پر روشنی ڈالی اور آیووش سیاحت کے فروغ کے لیے عالمی مثالوں جیسے کہ سری لنکا کی چائے کی سیاحت سے متاثر ہو کر انفراسٹرکچر کی ترقی کا مشورہ دیا تاکہ صحت مند سیاحوں کو متوجہ کیا جا سکے۔سی آئی آئی جے اینڈ کے چیئرمین، سید جنید الطاف نے جموں و کشمیر کے سیاحت کے شعبے میں درپیش چیلنجز اور مواقع پر خطاب کیا۔ انہوں نے کہا’’سیاحت مقامی اقتصادی ترقی، روزگار، اور سرمایہ کاری کو بڑھاتی ہے، لیکن اس ترقی کو ماحولیاتی اور ثقافتی تحفظ کے ساتھ متوازن کرنا ضروری ہے۔‘‘