دونوں ممالک کو باہمی شکوک و شبہات کے بجائے باہمی افہام و تفہیم کا عہد کرنا چاہئے / چینی وزیر خارجہ
سرینگر /// ہندوستان اور چین کو آدھے راستے میں ایک دوسرے سے ملنا چاہئے اور باہمی شکوک و شبہات کے بجائے باہمی افہام و تفہیم کا عہد کرنا چاہئے کی بات کرتے ہوئے چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا کہ چین بھارت تعلقات کی بہتری اور ترقی دونوں ممالک اور ان کے عوام کے بنیادی مفادات میں ہے اور یہ عالمی جنوبی ممالک کے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے سازگار ہے۔سی این آئی مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے خارجہ سیکرٹری وکرم مصری سے ملاقات کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اور چین کو آدھے راستے میں ایک دوسرے سے ملنا چاہئے اور باہمی شکوک و شبہات کے بجائے باہمی افہام و تفہیم کا عہد کرنا چاہئے۔مصری یہاں ہندوستان اور چین کے تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے چینی حکام کے ساتھ بات چیت کیلئے دو روزہ دورے پر آئے ہیں، یہ ڈیڑھ ماہ سے بھی کم عرصے میں ہندوستان سے چین کا دوسرا اعلیٰ سطحی دورہ ہے۔مصری کے ساتھ اپنی ملاقات میں وانگ نے کہا کہ گزشتہ سال روس میں صدر شی جن پنگ اور وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد سے، دونوں فریقوں نے دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان طے پانے والے اہم اتفاق رائے کو پوری سنجیدگی سے لاگو کیا ہے، فعال بات چیت کی ہے۔ چین کی وزارت خارجہ کی طرف سے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ چین بھارت تعلقات کو بہتر بنانے کے عمل میں تیزی لائی گئی ہے۔وانگ نے کہا’’دونوں فریقوں کو موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے، ایک دوسرے سے آدھے راستے پر ملنا چاہیے، مزید ٹھوس اقدامات کو تلاش کرنا چاہیے، اور باہمی شکوک و شبہات، باہمی بیگانگی اور باہمی استعمال کے بجائے باہمی افہام و تفہیم، باہمی تعاون، اور باہمی کامیابی کا عہد کرنا چاہیے‘‘۔انہوں نے کہا کہ چین بھارت تعلقات کی بہتری اور ترقی دونوں ممالک اور ان کے عوام کے بنیادی مفادات میں ہے اور یہ عالمی جنوبی ممالک کے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کیلئے سازگار ہے۔وانگ نے کہا کہ ہندوستان اور چین کے درمیان اچھے تعلقات بھی ایشیا اور دنیا کی دو قدیم تہذیبوں کے امن، استحکام، ترقی اور خوشحالی میں اپنا حصہ ڈالنے کیلئے سازگار ہیں۔










