سرینگر//یو این ایس// وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کے روز کہا کہ حال ہی میں منعقدہ 2026اے آئی امپیکٹ سمٹ میں پوری دنیا نے ہندوستان کی صلاحیتوں کو دل سے سراہا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹیکنالوجی کے میدان میں ہندوستانی نوجوانوں کی سوچ انسانیت کے وسیع تر مفاد میں اہم کردار ادا کرے گی۔وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر اپنے پیغام میں کہا کہ دہلی میں منعقد تاریخی اے آئی سمٹ میں ہندوستان کی صلاحیتوں کی عالمی سطح پر بھرپور تعریف کی گئی۔ انہوں نے لکھا کہ یہ اس بات کی عکاسی ہے کہ ٹیکنالوجی کے حوالے سے ہمارے نوجوانوں کی طرزِ فکر مستقبل میں پوری انسانیت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی۔یو این ایس کے مطابق گزشتہ ہفتے نئی دہلی میں منعقد ہونے والی اس سمٹ کا اختتام کی منظوری کے ساتھ ہوا، جو مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی تعاون کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ اس اعلامیہ کی 89 ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں نے توثیق کی، جس سے معاشی ترقی اور سماجی بھلائی کے لیے اے آئی کے استعمال پر وسیع عالمی اتفاقِ رائے سامنے آیا۔مٹ میں اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل گسترس انتونیوفرانس کے صدر ایمنول میکرون برازیل کے صدر ، سوئٹزرلینڈ کے صدر سمیت دنیا بھر کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سی ای اوز شریک ہوئے۔دیگر عالمی رہنماؤں میں سری لنکا کے صدر بھوٹان کے وزیر اعظم ماریشس کے وزیر اعظم کروشیا کے وزیر اعظم سربیا کے صدر سیشلز کے نائب صدر ایسٹونیا کے صدر اور فن لینڈ کے وزیر اعظم بھی شریک تھے۔’سروجن ہتائے، سروجن سکھائے‘ (سب کی بھلائی، سب کی خوشحالی) کے موضوع کے تحت منعقدہ اس سمٹ کا مقصد ہندوستان کو اے آئی کے شعبے میں عالمی رہنما کے طور پر پیش کرنا تھا، تاکہ ایک ایسا مستقبل تشکیل دیا جا سکے جہاں مصنوعی ذہانت انسانیت کی ترقی، جامع معاشی نمو اور کرہ ارض کے تحفظ کو یقینی بنائے۔سمٹ میں دنیا بھر سے 500 سے زائد عالمی اے آئی قائدین نے شرکت کی، جن میں تقریباً 100 سی ای اوز اور بانیان، 150 ماہرینِ تعلیم و محققین، 400 سی ٹی اوز، نائب صدور اور فلاحی شعبے سے وابستہ شخصیات شامل تھیں۔ اس کے علاوہ 100 سے زائد حکومتی نمائندے اور تقریباً 60 وزراء اور نائب وزراء بھی شریک ہوئے۔انہوں نے وضاحت کی کہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ نامعلوم علم کی دریافت کے لیے تحقیق اور تجربہ ضروری ہے، معلوم حقائق کی جانچ و تجزیہ تحقیق کا آغاز ہے اور علم کی تصدیق مشاہدے اور عملی تجربے کے ذریعے کی جاتی ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان ٹیکنالوجی اور اختراع کے میدان میں تیزی سے ابھر رہا ہے اور اے آئی کے شعبے میں اس کی قیادت نہ صرف ملکی ترقی بلکہ عالمی بھلائی کے لیے بھی اہم ثابت ہوگی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہندوستان انسانی کنٹرول اور اخلاقی اصولوں کے تحت ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دے گا تاکہ اے آئی انسانیت کی خدمت کا مؤثر ذریعہ بن سکے۔










