ہندوستان اور پاکستان کے مابین بڑھتی کشدگی

بھارت نے پاکستانی بحری جہازوں کے داخلے پر پابندی عائد کی

سرینگر//بھارت نے پاکستانی بحری جہازوں کے اپنی بندرگاہوں میں داخلے پر فوری پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ اقدام 22 اپریل کو پہلگام، جموں و کشمیر میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد کیا گیا ہے، جس میں 26 سیاح ہلاک ہوئے تھے۔ بھارت نے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا ہے، جبکہ پاکستان نے اس کی تردید کی ہے۔بھارتی ڈائریکٹوریٹ جنرل ا?ف شپنگ نے اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم والے کسی بھی جہاز کو بھارتی بندرگاہوں پر لنگر انداز ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور بھارتی پرچم والے جہاز بھی پاکستانی بندرگاہوں کا رخ نہیں کریں گے۔ یہ فیصلہ قومی سلامتی اور عوامی مفاد کے تحت کیا گیا ہے۔ اس سے قبل بھارت نے پاکستان سے درآمدات پر مکمل پابندی عائد کی تھی، جس میں ادویات، پھل اور تیل کے بیج شامل تھے۔ یہ پابندیاں 2019 کے پلوامہ حملے کے بعد عائد کی گئی 200 فیصد ڈیوٹی کے بعد مزید سخت کی گئی ہیں۔ پاکستان نے اس کے ردعمل میں بھارتی جہازوں کے لیے اپنی بندرگاہیں بند کر دی ہیں۔ یہ اقدامات دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو ظاہر کرتے ہیں، جو پہلے ہی سفارتی تعلقات کی تنزلی، ویزا معطلی، اور سرحدی جھڑپوں کی صورت میں سامنے آ چکی ہے۔دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں اس قدر تناو 2019 کے بعد پہلی بار دیکھا گیا ہے، جب بھارت نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی تھی۔ موجودہ صورتحال میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور سفارتی روابط مزید متاثر ہو سکتے ہیں۔