ہندوستان اور پاکستان سرحد پر مرکزی ٹیلی کام محکمہ نے شروع کیا خصوصی آپریشن

سرینگر// ہندوستان اور پاکستان بین الاقوامی سرحد پر پاکستان کی جانب سے ہونے والی ملک مخالف سرگرمیوں پر روک لگانے کے لیے مرکزی ٹیلی کام محکمہ نے خصوصی آپریشن شروع کیا ہے۔ٹیلی کام محکمہ کی جانچ میں سامنے آیا ہے کہ جیسلمیر ، باڑمیر ، شری گنگانگر اور بیکانیر اضلاع کی سرحدوں کے اندر کئی جگہوں پر پاکستان کے موبائل ٹاروں کے سنگل پہنچ رہے ہیںجن کو روکنے کیلئے پاکستانی سرحد کے قریب جامز لگائے جائیں گے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق ہندوستان اور پاکستان بین الاقوامی سرحد پر پاکستان کی جانب سے ہونے والی ملک مخالف سرگرمیوں پر روک لگانے کے لیے مرکزی ٹیلی کام محکمہ نے خصوصی آپریشن شروع کیا ہے۔ سرحد پار سے ہونے والی غیر قانونی سرگرمیوں کو ٹریک کرنے کیلئے مرکزی ٹیلی کام محکمہ بارڈر کے آس پاس کے پورے نیٹ ورک پر گہری نظر رکھ رہا ہے۔ پاکستان سے وابستہ بین الاقوامی سرحد کے آس پاس غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث لوگوں کی دھڑپکڑ کے کیلئے جانچ ایجنسیوں کے ذریعہ سے انہیں سلاخوں کے پیچھے بھیجنے کی تیاری شروع کردی گئی ہے۔پاکستان سے متصل 1070 کلو میٹر طویل بین الاقوامی سرحد پر مرکزی ٹیلی کام محکمہ نے یہ خاص آپریشن شروع کیا ہے۔ راجستھان کے جیسلمیر ، باڑمیر ، شری گنگانگر اور بیکانیر اضلاع کی سرحدیں پاکستان سے جڑی ہوئی ہیں۔ ان چاروں اضلاع کی سرحدوں کے آس پاس ٹیلی کام کمپنیوں کے صارفین کی ٹیلی کام سروسیز پر گہری نظر رکھی جارہی ہے۔ ٹیلی کام محکمہ کی جانچ میں سامنے آیا ہے کہ جیسلمیر ، باڑمیر ، شری گنگانگر اور بیکانیر اضلاع کی سرحدوں کے اندر کئی جگہوں پر پاکستان کے موبائل ٹاروں کے سنگل پہنچ رہے ہیں۔ٹیلی کام محکمہ نے ایسے سبھی علاقوں کو مرکزی جانچ ایجنسیوں کے ساتھ مل کر نشان زد کیا ہے جہاں سرحد پار کرکے پاکستان سے موبائل ٹاوروں کے سگنل ہندوستان کی سرحد کے اندر پہنچ رہے ہیں۔ چاروں اضلاع میں پاکستان کے موبائل ٹاور کے سگنل آنے کی وجہ سے بڑے پیمانے پر ڈرگس کی تسکری اور جعلی کرنسی کے ساتھ ساتھ ملک مخالف سرگرمیوں کو انجام دیا جارہا ہے۔ راجستھان میں مرکزی ٹیلی کام محکمہ کے ڈویزنل ڈپٹی ڈائریکٹڑ جنرل سدھارتھ پوکرنا نے بتایا ہے کہ چاروں اضلاع کی سرحدوں میں پاکستانی موبائل ٹاوروں کے نیٹ ورک کی سرگرمیوں پر لگام لگایا جارہا ہے۔ اس کے لئے سرحد کے ا?س پاس پاکستانی سم بیچنے والے ، سوشل میڈیا ، انٹرنیٹ کالس اور ای میل بھیجنے والوں کی دھڑپکڑ شروع کی جارہی ہے۔ عام لوگوں کو بھی اس طرح کی سرگرمیوں سے دور رہنے کی ہدایت دی جارہی ہے۔سرحد پر تعینات سیکورٹی اہلکاروں کے جوان مستعدی سے بارڈر کے آس پاس سبھی طرح کی سرگرمیوں پر لگام لگا رہے ہیں، لیکن پاکستان کے موبائل ٹاوروں کے سگنل سے ہونے والی انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا سرگرمیاں چیلنج ہیں۔ خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹ کے مطابق ہندوستانی سرحد میں رہ کر کچھ لوگ ہندوستان پاکستان کی سرحد کے آس پاس واقع پاکستان کے موبائل ٹاوروں سے آنے والے سگنلوں کا غلط استعمال اور ملک مخالف سرگرمیوں میں بھی کررہے ہیں۔