ہم ونیزویلا کی نگراں صدر کو تسلیم نہیں کرتے :یورپی یونین

برسلز/ ایجنسیز // یورپی کمیشن کی ترجمان نے منگل کو کہا ہے کہ یورپی یونین وینزویلا کی نگراں صدر ڈیلسی روڈریگز کو تسلیم نہیں کرے گی البتہ وہ ملکی حکام کے ساتھ رابطہ جاری رکھے گی۔دوپہر کی پریس بریفنگ میں انیتا ہپر نے یورپی یونین کے دیرینہ موقف کو دہرایا کہ وینزویلا کے حکام “اپنا مینڈیٹ ایک ایسے انتخابی عمل سے حاصل کرتے ہیں جس نے عوام کی جمہوری تبدیلی کی خواہش کا احترام نہیں کیا ہے۔ہپر نے اس بات پر زور دیا کہ یورپی یونین وینزویلا میں جمہوری منتقلی کے لیے جامع مکالمے کی حمایت کرتی ہے، جس میں جمہوریت کے لیے پرعزم تمام فریقین بشمول جمہوری طور پر منتخب اپوزیشن رہنما” بھی شامل ہوں۔انہوں نے کہا کہ یورپی یونین نکولس مادورو یا ڈیلسی روڈریگز کی قانونی حیثیت کو تسلیم نہیں کرتی، جبکہ وینزویلا کے حکام کے ساتھ محدود روابط جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ اس کے مفادات اور اصولوں کا تحفظ کیا جا سکے ۔یہ بیانات وینزویلا میں روڈریگز کی تقرری کے بعد سیاسی انتشار اور صدر مادورو کو اغوا کرنے والے امریکی فوجی آپریشن کے دوران سامنے آئے۔مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورز، اس وقت امریکہ میں قید ہیں، جہاں منشیات کی اسمگلنگ اور دہشت گرد گروہوں کے ساتھ مبینہ تعاون سے متعلق وفاقی الزامات کا سامنا ہے۔ہپر نے آرکٹک میں سلامتی کے خدشات کو بھی اجاگر کیا اور اس بات پر زور دیا کہ “علاقائی سالمیت اور خودمختاری بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصول ہیں۔”انہوں نے مزید کہا کہ یہ وہ اصول ہیں جو نہ صرف یورپی یونین کی نظر میں بلکہ پوری دنیا کے ممالک کی نظر میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔