صدر جو بائیڈن نے جمعرات کو اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ,ہم ایران کو آزاد کرائیں گے ۔۔اس سے پہلے مجمع میں موجود ایرانی حاظرین نے ان سے مطالبہ کیا کہ ان کے ملک میں جاری احتجاجی مظاہروں سے متعلق ضروری اقدامات کریں جو سیکورٹی فورسز کی حراست میں ایک نوجوان خاتون کی ہلاکت کے خلاف پورے ملک میں ہو رہے ہیں ۔بائیڈن نے جواب میں کہا ، “پریشان نہ ہوں، ہم ایران کو آزاد کرانے والے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا، کہ ایرانی بہت جلد خود کو آزاد کرلیں گے ۔،وہ ڈیموکریٹک نمائندے مائیک لیون کے لیے ایک انتخابی ریلی سے خطاب کر رہے تھےہجوم میں موجود حامیوں نے موبائل فون اٹھا رکھے تھے جن میں پیغام تھا۔ فری ایران FREE IRAN
بائیڈن انتظامیہ کو ایرانی امریکی کارکنوں کی بڑھتی ہوئی تنقید کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جو وائٹ ہاؤس سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ ان کے ملک میں مظاہروں کو دیکھتے ہوئے، ایران جوہری معاہدے کو دوبارہ فعال کرنے کی کوششیں ترک کر دیں۔بائیڈن انتظامیہ نے ستمبر میں ایران کی اخلاقی پولیس کی حراست میں ،نوجوان کرد خاتون مہسا امینی کی ہلاکت کے خلاف ،احتجاج کرنے والے مظاہرین کے ساتھ وحشیانہ سلوک پر ایرانی حکام کے خلاف پابندیوں کا اعلان کیا تھا۔ا نتظامیہ نے حال ہی میں یوکرین کے خلاف جنگ کے لیے روس کو ڈرون اور تکنیکی مدد فراہم کرنے پر ایران کو پابندیوں کا نشانہ بھی بنایا ہے۔ اس نے خطے میں امریکی افواج پر حملوں کے جواب میں شام میں ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا کے خلاف اگست میں امریکی فوجی حملوں کا حکم دیا تھا۔اسی اثناء میں امریکہ نے جمعرات کے روز تیل کی اسمگلنگ کے ایک بین الاقوامی نیٹ ورک کے خلاف پابندیاں عائد کر دی ہیں جس کے بارے میں اس نے کہا ہے کہ وہ حزب اللہ اور ایران کی قدس فور س کی مدد کرتا ہے ۔ ان پابندیوں میں درجنوں لوگوں ، کمپنیوں اور ٹینکرز کو ہدف بنایا گیا ہے کیوں کہ واشنگٹن تہران پر دباؤ بڑھانا چاہتا ہے ۔










