سری نگر، 29 جنوری (یو این آئی) کشمیر زون پولیس کے انسپکٹر جنرل وجے کمار نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے ایک نیا طریقہ کار اختیار کیا ہے جس کے تحت مقامی جنگجوئوں کو خود سپردگی اختیار کرنے پر آمادہ کرنے کی زیادہ سے زیادہ کوششیں کی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان آن لائن پورٹلز کے ذریعے کشمیری نوجوان کو ہتھیار اٹھانے پر اکساتا ہے اور والدین پر فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں۔
انہوں نے کہا کہ سری نگر کے مضافاتی علاقہ لاوے پورہ میں گذشتہ برس 30 دسمبر کو مارے گئے تینوں مقامی نوجوان جنگجوئوں اور ان کے اعانت کاروں کے رابطے میں تھے اور اس کے پولیس کو ٹھوس ثبوت ملے ہیں۔
آئی جی پی وجے کمار نے یہ باتیں جمعے کو یہاں پولیس کنٹرول روم سری نگر میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران نامہ نگاروں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہیں۔
انہوں نے کہا: ‘ہم نے اس نئے سال میں ایک نیا طریقہ کار اختیار کیا ہے۔ وہ طریقہ کار یہ ہے کہ ہمارا پورا فوکس اور کوشش یہ ہوگی کہ جنگجو خود سپردگی اختیار کریں۔ ہم نے کل ہی بانڈی پورہ میں ایک مقامی جنگجو کو خود سپردگی اختیار کرنے کا پورا موقع دیا’۔
انہوں نے کہا: ‘جنگجوئوں کو زندہ پکڑنے یا خود سپردگی کرنے پر آمادہ کرنے سے کافی معلومات ملتی ہیں۔ اس کے بعد دوسرے جنگجو بھی خود سپردگی اختیار کرنے پر راضی ہو جاتے ہیں’۔
ان کا مزید کہنا تھا: ‘وہ لڑکے جنہوں نے حال ہی میں جنگجوئوں کی صفوں میں شمولیت اختیار کی ہے ہم پوری کوشش کریں گے کہ وہ خود سپردگی اختیار کریں۔ ہم ان کے والدین سے بھی مدد لیں گے۔ جہاں بھی ہمیں معلوم ہوجاتا ہے کہ محاصرے میں پھنسنے والے جنگجو کون ہیں ہم فوراً ان کے والدین کو بلاتے ہیں’۔
وجے کمار نے کہا کہ پاکستان آن لائن پورٹلز کے ذریعے کشمیری نوجوانوں کو ہتھیار اٹھانے پر اکساتا ہے نیز نوجوان اپنے دوستوں سے متاثر ہو کر بھی ہتھیار اٹھاتے ہیں۔
انہوں نے کہا: ‘ہم ایک پورٹل بنائیں گے جس کے ذریعے ہم والدین اور بچوں تک پہنچیں گے۔ ہم ان کو بتائیں گے کہ ملی ٹینسی اچھا راستہ نہیں ہے۔ پاکستان کی مسلسل کوششیں ہیں کہ کشمیری نوجوانوں کو جنگجوئوں کی صفوں میں شامل کرایا جائے۔ ہم بہت الرٹ ہیں۔ ہم کچھ والدین کے رابطے میں ہیں۔ لڑکوں کو واپس لانے کی ہم بہت کوششیں کر رہے ہیں۔ بچوں کو غلط راستے پر چلنے سے روکنا سماج کی مجموعی ذمہ داری ہے’۔
آئی جی پی وجے کمار نے کہا کہ ہمیں اطلاعات مل رہی ہیں کہ شمالی کشمیر میں نوجوانوں کو جنگجوئوں کی صفوں میں شامل کرانے کی کوششیں ہو رہی ہیں تاہم ہم کافی الرٹ ہیں۔
انہوں نے کہا: ‘ملی ٹینسی کو روکنا پولیس کا کام ہے۔ میں والدین سے اپیل کرتا ہوں کہ اگر آپ کو اپنے بچوں کے برتائو میں بدلائو نظر آ رہا ہے یا وہ جنگجوئوں کے رابطے میں ہیں تو آپ پولیس متعلقہ پولیس افسران سے ملیں’۔
آئی جی پی نے لاوے پورہ تصادم سے متعلق پوچھے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا: ‘مارے گئے نوجوانوں میں سے ایک پولیس والے کا بیٹا ہے۔ اس کو 2019 میں ایس او جی کیمپ پلوامہ میں بلایا گیا تھا جہاں اسے سمجھایا گیا تھا۔ وہ جنگجوئوں کے ساتھ چلتا تھا’۔
انہوں نے کہا: ‘جب ہم نے سی ٹی آر انالسز کیا تو یہ پایا کہ تینوں جنوبی کشمیر کے مقامی او جی ڈبلیوز کے ساتھ مسلسل بات کرتے تھے۔ موبائل فونوں سے ملنے والے میٹا ڈیٹا کے مطابق پلوامہ کے دو نوجوانوں کا آئی پی ایڈرس پاکستان تھا۔ شوپیاں کا نوجوان ورچول نمبر کے ذریعے ایک ٹاپ پاکستانی کمانڈر کے ساتھ بات کرتا تھا۔ بات چیت کیا ہوتی تھی اس کو حاصل کرنے میں ہمیں وقت لگ رہا ہے کیونکہ موبائل فون تباہ ہو چکے تھے۔ جب ہم تفصیلات عدالت میں پیش کریں گے تو آپ کو بھی معلوم چلے گا’۔
آئی جی پی نے کہا کہ مہلوک نوجوانوں کے گھر والے اب تک جو بھی بولے ہیں وہ جھوٹ ثابت ہوا ہے اور وہ پولیس کی مدد سے اپنے بچوں کو روک سکتے تھے۔
انہوں نے کہا: ‘جس بچے کو ایس او جی کیمپ پر بلایا جاتا ہے کیا اس کے والد کو نہیں معلوم تھا کہ میرا لڑکا جنگجوئوں کے رابطے میں ہے۔ ایک بچہ تین تین موبائل فون لے کر گھومتا ہے۔ وہ ان موبائل فونز پر کیا کرتا ہے والدین کو معلوم ہونا چاہیے۔ والدین کا بہت بڑا کردار بنتا ہے۔ والدین پر فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو سنبھالیں’۔
ان کا مزید کہنا تھا: ‘کچھ نوجوان اپنے گھر والے سے کہتے ہیں کہ میں دلی یا جموں گھومنے کے لئے جا رہا ہوں۔ لیکن وہ جنگجوئوں کی صفوں میں شمولیت کرتا ہے۔ اگر وہ اسی دن کسی تصادم میں مارا جاتا ہے تو اس کی شناخت کرنا مشکل بن جاتا ہے’۔










