امریکہ کے محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں طالبان نے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ اپنے ملک کو بین الاقوامی دہشت گرد گروہوں کے لیے جنت نہیں بننے دیں گے۔ جمعرات کو واشنگٹن میں پریس بریفنگ کے دوران امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس کا پاکستان میں ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملوں سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ ’ہمیں کرائی گئی بہت سی یقین دہانیوں میں سے ایک یہ بھی تھی کہ افغانستان کو ایک بار پھر بین الاقوامی دہشتگردوں کی جنت نہیں بننے دیا جائے گا اور نہ ہی اسے دیگر ممالک پر ہونے والے حملوں کے لیے ایک لانچ پیڈ بننے دیا جائے گا۔‘ نیڈ پرائس کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمارا مقصد یہ ہے کہ دہشتگرد افغانستان کو پاکستان پر حملے کرنے کے لیے ایک لانچ پیڈ کے طور پر استعمال نہ کریں۔‘ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ امریکہ دہشتگردی کی روک تھام کے لیے صرف افغانستان میں طالبان کی محتاج نہیں۔ نیڈ پرائس کا کابل میں القاعدہ کے سابق سربراہ ایمن الظواہری کی ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہنا تھا کہ ’جہاں تک خطے میں دہشت گردی کی روک تھام کی بات ہے تو ہمارے پاس موجودہ صلاحیتوں کی وجہ سے ہم صرف طالبان کے محتاج نہیں۔‘ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کالعدم تحریک پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر مسلح گروہوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم خطے میں اپنے اتحادیوں بشمول پاکستان کے ساتھ مل کر دہشتگردی کے خطرات کو روکنے کے لیے جو ہو سکا کریں گے۔‘ خیال رہے پاکستان کے بیشتر علاقوں میں حال ہی میں کالعدم ٹی ٹی پی نے سکیورٹی فورسز پر ہونے والے کئی حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ٹی ٹی پی کے وزیر دفاع کی جانب سے 28 نومبر کو ایک اعلامیہ جاری ہوا تھا جس میں پاکستان کے ساتھ جنگ بندی کے خاتمے کے اعلان کے ساتھ مزید حملوں کی بھی دھمکی دی گئی تھی۔اعلامیہ جاری ہونے کے دو روز بعد کوئٹہ میں پولیس کی گاڑی پر دھماکہ کیا گیا تھا جس میں 2 افراد ہلاک اور 25 زخمی ہوئےتھے۔










