سری نگر//میرواعظ مولوی عمر فاروق کی قیادت والی حریت کانفرنس نے کہا کہ وادی کشمیر میں ہلاکتوں کے واقعات میں حالیہ اضافہ کشمیر تنازعہ کے فوری طور پر حل کرنے کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے اور یہ سنگین صورتحال جس سے یہ خطہ دوچار ہے مسئلہ کو مستقل بنیادوں پرحل کر کے ہی قتل و غارتگری کو روکا جاسکتا ہے۔حریت کانفرنس، جس کے سربراہ میرواعظ پانچ اگست 2019 سے مسلسل نظر بند ہیں، کے ترجمان نے جمعرات کو یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ خطے کی تیزی سے بدلتی جغرافیائی اور سیاسی صورتحال بھی اس تنازع کے فوری حل کی ضرورت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کنٹرول لائن پر بھارت اور پاکستان کے مابین بندوقیں خاموش رہنے سے ایل او سی کے قریب رہائش پذیر لوگوں کو امن و سکون کے ساتھ زندگی گزارر ہے ہیں جس سے بھارت پاک تعلقات میں سدھار کی طرف بھی اشارہ ملتا ہے۔ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام کے لئے یہ بات ہمیشہ خوش آئند رہی ہے جب دونوں پڑوسیوں کے مابین مفاہمت اور بات چیت کے ذریعے تنازع کشمیر کے حل کے لئے آگے بڑھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔تاہم بقول ان کے یہ بدقسمتی ہے کہ اس حوالے سے جموں و کشمیر کے لوگوں کو اب تک اعتماد میں نہیں لیا گیا ہے جس کی وجہ سے نہ تو باہمی تعلقات میں کچھ زیادہ پیش رفت ہو رہی ہے اور نہ ہی زمینی صورتحال میں کوئی نمایاں اور مثبت تبدیلی نظر آرہی ہے کیونکہ سیاسی قیادت اور سینکڑوں سیاسی قیدی اور نوجوان جیلوں یا گھر میں نظربند ہیں اور ان میں سے بہت سے لوگوں کی صحت کی صورتحال تشویش کا باعث ہے۔بیان میں خاندانی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ محمد یاسین ملک جو دل کے مریض ہیں اور ان کے 25 سال پرانے دل کے والو کو فوری طور پر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، جبکہ شبیر شاہ کی طبیعت بھی جیل میں خراب ہوگئی ہے کیونکہ وہ بھی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ کووڈ 19 کی قہر انگیز پھیلاؤ کے پس منظر میں انسانی بنیادوں پر سماج کے تمام طبقات اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کی بار بار اپیلوں کے باوجود سیاسی قیدیوں اور نوجوانوں کو ابھی تک رہا نہ کیا جانا حد درجہ افسوسناک اور قابل تشویش ہے۔حریت ترجمان نے کہا کہ کووڈ کے دوران بھی جموں و کشمیر کے عوام کو ڈرانے دھمکانے کے لئے مسلسل’آمرانہ اقدامات‘ اٹھائے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت ہند کی جانب سے یکطرفہ فیصلے کے تحت اگست 2019 میں آرٹیکل 370 اور 35 اے کو منسوخ کرنے اور جموں و کشمیر کو دو مرکزی علاقوں میں تقسیم کرنے کے ساتھ ہی یہاں کی آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کے مقصد سے متعدد قوانین نافذ کئے گئے جن کی وجہ سے ایک طرف یہاں کے عوام میںیہ خدشات پائے جا رہے ہیں کہ یہ سب کچھ ان کی شناخت کو ختم کرنے کی ایک گہری سازش ہے۔انہوں نے کہا: ‘ان نئے قوانین کے نفاذ کے بعد روزگار کی ضمانتوں، زمین کے حقوق اور بیرونی لوگوں کے ذریعہ قدرتی وسائل کے استحصال کے زیاں پر بھی سخت تشویش پائی جاتی ہے۔ جس کے سبب لوگوں میں نفسیاتی بیماریوں میں زبردست اضافہ اور اس کے نتیجے میں خود کشی کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا: ‘جبکہ دوسری طرف شہری ہلاکتوں، زیر حراست قتل، پولیس اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کی ہلاکت اور عسکریت پسند نوجوانوں کی ہلاکتوں کے واقعات اور قتل و غارت اور خونریزی دراصل دیرینہ مسئلہ کشمیر کو معلق رکھنے کا سبب ہے۔بیان میں کہا گیا کہ حریت کانفرنس ہمیشہ سے ہی خطے میں رہنے والے تمام باشندوں کے لئے امن اور ترقی کی نہ صرف حامی اور وکیل ہے بلکہ اسے پختہ یقین ہے کہ ہندوستان، پاکستان اور جموں و کشمیر کے عوام کے امنگوں اور جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے کشمیر کے دیرینہ تنازع کو حل کرسکتے ہیں اور اس کے لئے سازگار ماحول قائم کرنے، اعتماد سازی کے اقدامات اور سنجیدہ باہمی مذاکرت کی شدید ضرورت ہے تاہم اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے حکومت ہندکو چاہئے کہ وہ اگست 2019 سے جمہوریت کے نام پر یہاں اٹھائے گئے تمام اقدامات اور ان تمام قوانین کو منسوخ کرے جو جموں و کشمیر کے لوگوں کے لئے ناقابل قبول ہیں۔ نیز گرفتار کئے گئے تمام نوجوانوں، سیاسی قیدیوں کو جیلوں اور حریت چیرمین میرواعظ عمر فاروق سمیت تمام نظر بندوں کو فوری طور رہا کرے۔










