مریضوں کی بات سننا اور انکے ساتھ اچھے سے پیش آنا مریض کے علاج کیلئے ضروری ۔ماہرین طب
سرینگر//اس بات کا انشکاف ہوا ہے کہ ہسپتالوںمیں ڈاکٹر مریضوں کے ساتھ حسن سلوک کے ساتھ پیش نہ آنے کی وجہ سے اکثر مریض علاج سے مطمین نہیں ہوتے ۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر دوران علاج مریضوں سے جس لہجے میں بات کرتے ہیں وہ غیر ذمہ دارانہ ہے وائس آف انڈیا کے مطابق اکثر مریضوں نے شکایت کی ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں تعینات اکثر ڈاکٹر صاحبان وہاں آنے والے مریضوں سے خوش اخلاقی اور حسن سلوک سے پیش نہیں آتے جس کے نتیجے میں مریض ہسپتالوں کے علاج سے مطمین نہیں ہوتے ۔خاص کر صورہ سکمز سے شکایت ملی ہے کہ ہسپتال میں اگرچہ علاج و معالجہ کی سہولیات بہتر ہے تاہم ہسپتال میں مریضوں کے دبائو کا خمیازہ مریضوں کو اُٹھانا پڑتا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ہسپتالوں میں آنے والے مریضوں کو امید ہوتی ہے کہ ان کے ساتھ ہمدردانہ اور رحم دلانہ سلوک ہوگا تاہم ڈاکٹروں کی جانب سے غیر انسان دوستی اور سخت لہجہ دیکھ کرمریض مایوس ہوجاتے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ مریض کو دوران علاج ہمدردی سے پیش آنا اور ان کے ساتھ نرمی برتنا علاج کا ہی ایک حصہ ہے کیوں کہ مریض اپنے مرض کی وجہ سے اپنی زندگی سے بیزار ہوتا ہے اور جب ایک بہترین معالجہ اس کا علاج کے دوران مریض کے ساتھ ہمدردی کے ساتھ بات کرتا ہے تو مریض مایوسی کے دلدل سے نکل آتا ہے اور اس کے دل میں ایک امید جاگ جاتی ہے ۔انہوںنے اس بات کا بھی اعتراف کیا ہے کہ ڈاکٹر مریض کو علاج کے وقت مریض کی بات اچھی طرح سے نہیں سنتا اور ناہی اس کو وقت دیتا ہے ۔ایسی بھی رپورٹیں موصول ہورہی ہیں کہ دوران علاج ڈاکٹر مریض کی کے جذبات اور سماجی معاملات پر بات نہیں کرتا جو کہ مریض کو صحت یاب ہونے کیلئے بہت ہی ضروری ہوتا ہے کیوں کہ جب ایک معالج مریض کی بات اچھی طرح سنتا ہے اور اس کے جذبات جانتا ہے تو مریض کو اس بات کا اطمینان ہوتا ہے کہ معالج اب اس کا علاج بہتر کرسکتا ہے ۔انہوںنے کہاکہ ڈاکٹر کے غلط رویہ کی وجہ سے کوئی بھی علاج محض چند لمحوں میں ادھورا رہ سکتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ پہلے ہسپتالوں پر لوگوں کو کافی بھروسہ تھا تبھی ہسپتالوں کو شفاخانہ کہا جاتا تھا جہاں پر مریضوں کی قدر ہوتی اور مریضوں کے ساتھ حسن سلوک کیا جاتا تھا تاہم آج کے دور میں یہ بات نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ مریضوں کو ڈاکٹر سے ملنے کیلئے بہت وقت انتظار کرنے اور تشخیص کے مراحل میں کافی وقت لگنے کی وجہ سے مریضوں میں چڑچڑاہٹ پیدا کرتا ہے جس کو ایک ڈاکٹر کو سمجھنا ضروری ہے ۔ انہوںکہا کہ ہسپتالوں میں مریضوں کی دیکھ ریکھ ہسپتال عملہ کی ذمہ داری ہوتی ہے تاہم ہسپتالوں میں اس کیلئے تیمارداروں کو ذمہ دار ٹھہرایاجاتا ہے ۔










