نوجوانوں کیلئے کہیں پر بھی کھیل کود کی مناسب جگہ دستیاب نہیں
سرینگر//ہانجی دانتر میں سسپورٹس سٹیڈیم نہ ہونے کی وجہ سے یہاں کے نوجوانوں کی کھیل کود کے لئے سہولیات میسر نہیں ہیںاس سلسلے میں نوجوانوں کا کہنا ہے کہ ہانجی دانتر کے اندر کوئی بھی ایسی جگہ نہیں ہے جس کو مقامی نوجوان کھیل کود کے لئے استعمال کر سکیں۔ہانجی دانتر اننت ناگ میں سپورٹس سٹیڈیم کے قیام کا مطالبہ مقامی شہری بشیر احمد ملک کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک اور قوم کا اصل سرمایہ ان کی نئی نسل ہوتی ہے۔ اس لیے سرمایہ کی نشونما کیلئے ہر وہ بنیادی ضرورت پوری کی جانی چاہئے جو دور حاضر میں ترقی یافتہ دنیا کے نوجوانوں کو حاصل ہے۔ یہ حقیقت روز روش کی ماند عیاں ہے کہ اننت ناگ کے نوجوان بلعموم اور ہانجی دانتر کے نوجوان بلخصوص زندگی کے ہر ایک شعبہ میں لوہا منوانا جانتے ہیں۔قدرت کی اس حسین وادی نے ایسے ایسے سورماہوں کو جنم دیا ہے جنہوں نے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں تاریخ رقم کی ہے۔ یہاں کے نوجوان نسل کھیل کود میں بھی کسی سے پیچھے نہیں ہے لیکن یہاں کے نوجوانوں کیلئے کھیل کود سے متعلق وہ سہولیات میسر نہیں ہیں جو اس سائنسی دور میں رہتی دنیا کو حاصل ہیں اس علاقے کی حدود میں بچوں کو کھیلنے کے لئے سٹیڈیم کی انتہائی ضرورت ہے جو یہاں کے نوجوانوں کو حاصل نہیں ہے۔ یہاں کے بیشتر نوجوان اپنی کھیل کود مشتق کیلئے گلی کوچوں،سڑکوں اور صحنوں کو استعمال میں لاتے ہیں۔مقامی لوگوں نے سی این آئی نمائندے امان ملک کو بتایا کہ ہماری نوجوان نسل کھیل کود کی جگہ میسر نہ ہونے کی وجہ سے غلط کاموں کی جانب راغب ہو جاتے ہیں، بہت سارے نوجوان منشیات کی لت میں مبتلا ہوگئے ہیں، اگر کھیلنے کے لئے یہاں کوئی میدان بن جاتا تو ہمارے نوجوان کھیل کود میں مصروف رہتے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مقامی انتظامیہ سے ہم نے کئی مرتبہ اپنے اس جائز مطالبے کو رکھا لیکن کسی نے اس طرف کوئی توجہ نہیں دی ہے۔ حالانکہ ہانجی دانتر کے گرد و نواع میں بیشمار سرکاری اراضیات موجود ہیں جن پر ناجائز طریقوں سے قبضہ بھی کیا جا رہا ہے۔ اگر سرکار یا انتظامیہ ہماری اس جائز مانگ سے متعلق نیک نیتی کا ثبوت دیتے تو ان جملہ آراضیات میں سے کسی ایک جگہ کو کھیل کود کیلئے مختص کر دیتے تو ہمارے اس نوجوان طبقہ کیلئے ایک تاریخی کام ہو جاتا لیکن ہماری سرکار نے ایسا نہ کرکے نہ صرف یہاں کے نوجوان کے ساتھ نا انصافی کی ہے بلکہ مجموعی قومی مفادات کو نطر انداز کیا ہے۔لوگوں نے گورنر انتظامیہ سے گزارش کی کہ اب بلا تاخیر ہمارے اس دیرینہ مطالبے کو پورا کیا جائے تاکہ یہاں کے نوجوان رہتی دنیا کیساتھ ساتھ اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر اپنے اس علاقہ کا نام روشن کر سکیں۔










