ہائر سکنڈری سکول عید گاہ سرینگر میں نا معلوم بندوق برداروں کی فائرنگ

خاتون پرنسل اور استاد ہلاک ،اساتذہ کی ہلاکت پر وادی سوگوار

سری نگر//شہر سرینگر کے سنگم عید گاہ علاقے میں نا معلوم بندوق برداروں نے ایک ہائر سکنڈی سکول میں داخل ہو کر یہاں تعینات 2سکول اساتذہ پر فائرنگ فائئرنگ کی ہے جس کے نتیجے میں ایک خاتو ن اور ایک مرد اسیاد شدید زخمی ہوئے ہیں ۔اس دوران اگر چہ دونوں کو فوری طور ہسپتال منتقل کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاہم دونوں زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ بیٹھے ہیں ۔اس واقعے کے بعد فوج اور پولیس کے اعلیٰ حکام نے علاقے کا دورہ کر کے حملہ آروں کی تلاز تیز کر دی ہے ۔اس دوران پوری وادی کشمیر اساتذہ کی ہلاکتوں پر لوگوں میں غم و غصہ پایا جا رہا ہے ۔ادھر گزشتہ72گھنٹوں میں وادی میں5عام شہری ہلاکتوں کے بعد یہاں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی ہے جبکہ فورسز کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے ۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق وادی کشمیر میں نا معلوم بندوق برداروں کے ہاتھوں معروف کمسٹ مکھن لال بندرو کی ہلاکت کے تیسرے روز بعد شہر سرینگر کے عید گاہ کے سنگم علاقے میں جمعرات کے روز نا معلوم بندوق برداروں نے گورنمنٹ ہائر سکنڈری سکول میں داخل ہو کر یہاں تعینات سکول کے پرنسپل اور ایک استاد کو گولی ماردی گئی ہے جس کی وجہ سے دونوں کو ساتھی اساتذہ نے خون میں لت پت ا ٹھا کر فوری طور ہسپتال منتقل کرنے کی کوشش کی تاہم دونوں اسے قبل ہی زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ بیٹھے ہیں ۔ پولیس نے دونوںکی شناخت سکول کی پرنسپل ستندر کور ساکن آلوچی باغ اور استاد دیپک کول کے طور کی ہے۔اس دوران دونوں مہلوکیں کی لاشیں جب ان کے گھر پہنچائے گئے ہیں تو یہاں کہرام مچ گیا ہے اور یہاں صف ماتم بیچھ گئی ہے جبکہ سکول عملہ مکمل طور صدمے ہیںجو اپنے دونوں ساتھیوں کے کھونے کی جدائی میں زار و قطار رو رہے تھے ۔ان ہلاکتوں کے بعد وادی کشمیر کے لوگوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ِجبکہ قوم کے معماروں کی ہلاکت پر ہر سو لوگوں نے غم وتشویش کا اظہار ہے ۔جبکہ شہری ہلاکتوں کے بعد پوری وادی میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ۔ یہ ہلاکتیں معروف کمسٹ مکھن لا ل بندروں کی ہلاکت کے تیسرے روز بعد ہوئی ہے جس کو گھر کے اپنی دکان کے باہر نا معلوم بندوق برداروں نے گولی مار کر ہلاک کیا تھا جس پر بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی ہے ۔خیال رہے وادی کشمیر میں صرف3روز کے دوران5عام شہریوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔اس واقعے کے بعد پولیس اور فوج کے اعلیٰ افسران نے جائے واردات پر پہنچے اور حالات کا جائزہ لیا ہے اس دوران ڈی جی پی نے میڈیا کے ساتھ بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ جنگجوئوں پاکستانی ایجنسیوںکے اشاروں پرکشمیری مسلمانوں کو بد نام کرنے کی کوشش کر رہیے ہیں۔تاکہ یہاں صدیوں سے چل رہے بھائی چاری کو نقصان پہنچایاجائے ۔واقعے کے بعد اور حملہ آوروں کی تلاش کرنیکی غرض سے علاقے میں بڑے پیمانے پر تلاش کرنے کا کام شروع کیا ہے ۔ ادھر اس ایک اور شہری ہلاکتوں کے واقعے کے بعد پورے کشمیر میں سیکورٹی ہائی الرٹ کیا گیا ہے جس دوران جنوبی کشمیر میں ترال سمیت متعدد مقامات پر فورسز سڑکوں پر متحرک نظر آیا جو علاقے میں گشت کرتے تھے جبکہ کئی علاقوں میں تلاشی آپریشن بھی شروع کیا گیا ہے ۔