گیانواپی تنازعہ پر کئی عرضیاں مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ پیر کے روز تین عدالتوں میں کچھ اہم عرضیوں پر سماعت مقرر تھی لیکن سبھی سماعتیں ملتوی ہو گئی ہیں۔ آئندہ سماعت کے لیے تینوں عدالتوں نے الگ الگ تاریخ مقرر کی ہے اور سبھی تاریخیں دسمبر ماہ کی ہی ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق سول جج سینئر ڈویژن کی عدالت کی طرف سے دیے گئے سروے حکم کے خلاف انجمن انتظامیہ مساجد کی طرف سے داخل از سر نو غور کی عرضی پر سماعت ہوگی۔ ایڈیشنل چیف جیوڈیشیل مجسٹریٹ پنجم/ایم پی-ایم ایل اے کورٹ میں سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو اور اے آئی ایم آئی ایم چیف و رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی، شہر قاضی اور مولوی کے خلاف مقدمہ درج کیے جانے کے سلسلے میں عرضی پر سماعت 22 دسمبر کو ہوگی۔ گزشتہ دنوں عدالت نے اس عرضی کو قابل سماعت قرار دیا تھا، پھر چوک تھانہ سے رپورٹ طلب کیا گیا تھا۔ تھانہ انچارج سے پوچھا گیا تھا کہ معاملے میں مزید کوئی مقدمہ درج ہے یا نہیں۔ اب تھانہ سے کوئی مقدمہ درج نہ کیے جانے کی رپورٹ بھیج دی گئی ہے۔ یہ عرضی سینئر وکیل ہری شنکر پانڈے کی طرف سے داخل کی گئی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ گیان واپی احاطہ میں موجود وضو خانہ میں گندگی کرنے و دیگر بیانات سے ہندوؤں کے جذبات کو مجروح کرنے کو لے کر اکھلیش یادو اور اسدالدین اویسی پر مقدمہ چلانے کا مطالبہ ایک عرضی میں کیا گیا ہے۔اسی طرح سول جج سینئر ڈویژن اشونی کمار کی عدالت میں 6 مقدمات کی سماعت ہوگی اور اس کے لیے بھی 22 دسمبر کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ ان میں پہلی عرضی لارڈ آدی وشویشور شیتلا مندر مہنت شیوپرساد پانڈے کی، دوسری عرضی نندی جی مہاراج اور ستیندر چودھری کی، تیسری عرضی شرنگار گوری و رنجنا اگنی ہوتری کی، چوتھی عرضی ستیم ترپاٹھی کی، پانچویں عرضی ماں گنگا و سریش، اور چھٹی عرضی ابھشیک شرما کی طرف سے داخل کی گئی ہے۔دوسری طرف ضلع جج ڈاکٹر اجئے کرشن وشویش کی عدالت میں آج گیانواپی-شرنگار گوری معاملے کی سماعت ہونی تھی، لیکن سینئر ایڈووکیٹ کے انتقال کے سبب یہ سماعت نہیں ہو سکی۔ سماعت کے لیے آئندہ تاریخ 19 دسمبر کی مقرر کی گئی ہے۔










