ایل ای ڈی لائٹ ، کاشتکاری کا سامان ، سڑکوں کا کام ، دواخانوں، تعلیمی اداروں پر جی ایس ٹی میں اضافہ
چنڈی گڑھ : مرکزی وزارت فینانس نے آج چہارشنبہ کو اعلان کیا کہ حکومت بعض اشیاء اور خدمات بشمول کچن کا سامان پر ٹیکسوں میں اضافہ کرتے ہوئے اسے موجودہ 12 فیصد سے بڑھاکر 18 فیصد کے زمرہ میں لائے گی۔ یہ فیصلہ جی ایس ٹی کونسل کی یہاں منعقدہ دو روزہ 47 ویں میٹنگ کے بعد کیا گیا اور اس پر 18 جولائی 2022 ء سے عمل آوری ہوگی۔ میٹنگ کے بعد جاری کردہ بیان میں بتایا گیا کہ باورچی خانہ کے ظروف (برتن) ، ایل ای ڈی لائیٹس ، کھیتی باڑی کی مشینری ، سولار واٹر سسٹمس کے ساتھ ساتھ بعض خدمات جیسے سڑکوں کیلئے کام کے کنٹراکٹس ، آبپاشی پراجکٹس ، دواخانے اور تعلیمی اداروں کو بھی اب 18 فیصد جی ایس ٹی زمرہ میں لایا جائے گا، جو موجودہ طور پر 12 فیصد کی شرح والے زمرہ میں ہیں۔ مرکزی وزیر فینانس نرملا سیتارمن نے چنڈی گڑھ میں کہا کہ گڈس اینڈ سرویسز ٹیکس کونسل نے بعض اشیاء اور خدمات پر ٹیکس شرحوں کو واجبی اور منطقی بنانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ٹیکس کی خامی کو دور کیا جاسکے۔ دیگر امور میں جی ایس ٹی کونسل نے پٹرولیم اور کوئلہ کی کان سے حاصل ہونے والے میتھین پر ٹیکس کو 5 فیصد سے بڑھاکر 12 فیصد کردینے کی تجویز کو بھی منظوری دی۔ اس کے علاوہ پیکیج والے فوڈ ایٹمس کے لئے بھی ٹیکس شرحیں بڑھادی گئی ہیں۔ ای ویسٹر پر جی ایس ٹی کو موجودہ 5 فیصد سے بڑھاکر 18 فیصد کیا گیا ہے۔ حکومت اب بینک چیکس (چاہے ایک دو ہوں یا چیک بک) پر 18 فیصد ٹیکس لگائے گی۔ اس طرح تباہ شدہ وصیت پر 12 فیصد جی ایس ٹی عائد ہوگا۔ تاہم نقشوں ، ہائیڈرو گرافک یا اسی نوعیت کے تمام چاٹس بشمول اٹلس ، وال میاپ اور گلوب وغیرہ پر بھی 12 فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔ یہ تمام پراڈکٹس پر قبل ازیں صفر جی ایس ٹی تھا۔ وزیر فینانس کے اعلانات کے بعد ماہرین معاشیات نے کہا کہ ٹیکسوں میں اضافہ گھرانوں پر اضافی بوجھ عائد کرے گا، جو پہلے ہی غذائی اشیاء اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ سے پریشان ہیں۔ ٹیکس کنکٹ اڈوائزری ویویک جالن نے کہا کہ زرعی اشیاء جیسے پیاک کئے ہوئے اجناس پر ٹیکس میں 5 فیصد کا اضافہ ہوسکتا ہے ۔ یہ ایسی اشیاء کی بات ہے جو برانڈیڈ نہیں لیکن لیبل لگے پیاک میں فروخت کی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی شرح میں اضافہ کے نتیجہ میں خوردنی تیلوں کے ساتھ ساتھ دودھ کی اشیاء مہنگی ہوجانے کا اندیشہ ہے۔
کنزیومر پرائس انڈیکس پر مبنی شرح افراط زر سال بہ سال بڑھتے ہوئے ماہ مئی میں 7.04 فیصد تک پہنچ گئی۔ اپریل میں یہ شرح 8 سال کی سب سے اونچی 7.79 فیصد تھی۔










