PMJAY

گولڈن کارڈ مخصوص مریضوں کیلئے فائدہ مند ،عام مریض وتیماردارناواقف

اجراء کرنے میں لیت لعل ، عام لوگوں کو مشکلات ،جانکاری مہم شروع کرنا عام لوگوں کیلئے ضروری

سرینگر / /مرکزی سرکار نے گولڈن کارڈ کی فراہمی کویقینی بناتے ہوئے اس کو صحت کے حوالے سے مریضوں کیلئے ایک فائدہ مند ذریعہ بنایا ہے اور اس کارڈ کی مدد سے غریب مریضوںکا مفت یا کم خرچہ پر علاج ہورہا ہے ۔لیکن گولڈ ن کارڈ کے ذریعے اٹھائے جانے والے فائدوں سے عام لوگ بے خبر ہیں اور ان کو کوئی جانکاری فراہم کرنے والا نہیں ملتا ہے جس کے نتیجے میں اکثر لوگ اس کے فائدے سے محروم رہ جاتے ہیں جبکہ سرکاری طور گولڈن کارڈ کے ساتھ مخصوص مرض میں مبتلا مریضوںکو منسلک کیا گیا ہے لیکن اس حوالے سے بھی لوگ پریشان ہیں کیونکہ بیشتر لوگوں کا یہ گمان ہے کہ ہر بیماری پر خرچ ہونے والے پیسے گولڈن کارڈ کے لوازمات پورا کرنے کے بعد واپس آجائیں گے ۔لیکن جب اسپتال انتظامیہ سے اس بارے میں پوچھا جاتا ہے تو ان کا کہنا ہے کہ یہ مخصوص امراض میں مبتلا مریضوں کیلئے استعمال میںلانا ہوتا ہے ۔اس طرح بیشتر لوگ(تذبذب )کنفوژن کے شکار ہیں۔اس کے علاوہ بیشتر علاقوں میں ابھی لوگوں کی خاصی تعداد کو گولڈن اجرا نہیں ہوئے ہیں جس پر نالاں وپریشان ہیں کیونکہ ہر کسی شخص کیلئے گولڈن کارڈ اب زندگی کا ایک اہم جز بناہوا ہے ۔اس سلسلے میں کشمیر پریس سروس کے ساتھ بات کرتے ہوئے مختلف اسپتالوں بشمول سکمز ،ایس ایم ایچ ایس اور ضلع اسپتالوں سے مریضوں کے تیمار داروں نے فون کرکے بتایا کہ گولڈن کارڈ صحت کے حوالے سے بڑی اہمیت کا حاملہ ہے اور یہ بالخصوص غریب مریضوں کیلئے ایک سہارا بنا ہوا ہے ۔لیکن اس کارڈ کے ذریعے مریض پر خرچ ہونے والے ادویات اور سامان کے پیسے حاصل کرنے کیلئے لوازمات اتنے سخت رکھے گئے ہیں کہ تیماردار کیلئے یہ پریشانی کا باعث بن جاتا ہے کیونکہ اس میں اتنی طوالت ہے کہ وہ تنگ آجاتے ہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ کارڈ کن مخصوص امراض کے ساتھ منسلک ہیں ۔ان کے پاس اس حوالے سے کوئی جانکاری نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہر کوئی مریض یا اس کے تیماردار اس کوشش میں رہتے ہیں کہ علاج پر خرچ ہوئے پیسے واپس کئے جائیں گے لیکن لوازمات پورا کرنے بعد ان سے کہا جاتا ہے کہ یہ امراض یا یہ مریض گولڈن کارڈ کے زمرے میں نہیں آتے ہیں اور اس سے وہ دلبرداشت ہوجاتے ہیں کیونکہ امیدوں اور محنت پر پانی پھیرجاتا ہے ۔اسی طرح کئی علاقوں کے لوگوں سے کے پی ایس کو یہ شکایات موصول ہوئی ہیں کہ گولڈ ن کارڈس کو اجراء کرنے میں ٹال مٹول کی پالیسی اپنائی جارہی ہے اجراء کرنے میں لیت ولعل سے کام لیاجارہا ہے ۔ان لوگوں کے بقول پیسوں کے عوض یا اثررسوخ کی بنیاد پر اجراء کرنے کی پالیسی اپنائی جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہر کنبہ کے افراد خانہ سے تمام لوازمات پورا کرانے کے بعد ان کنبوں کو گولڈن کارڈ فراہم کئے جاتے ہیں تاہم ہر کنبہ کے ایک ایک فرد کو کارڈ فراہم کرنے میں مختلف بہانے بتائے جارہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جس شخص کو کارڈ حاصل نہیں ہوتاہے تو وہ مقامی مرکزپر جاکر اپنا گولڈن کارڈ طلب کرتاہے ۔ان کے بقول وہاں پر ان کو اولڈ سیکٹریٹ جانے کی صلاح دی جاتی ہے یا 450روپے دینے کا مطالبہ کیا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جب متعلقین سے پوچھا جارہا ہے تو ان کا کہنا ہے کہ کارڈ کو اپ لوڈ کرنے کیلئے کسی کو اولڈ سیکٹریٹ بھیجناہے ۔انہوں نے کہا کہ گولڈن کارڈ کے حصول کیلئے دی گئی ویب سائٹ پر آن لائن تفصیلات دی جاتی ہیں اور سبھی افراد خانہ خدمت سنٹروں یا محکمہ مال یا پنچایتی دفتروں سے اپ لوڈ کراکے کارڈ حاصل کرتے ہیں لیکن ہر کنبے کے ایک فرد کو کارڈ اجراء کرنے میں اڑچنیں پیدا کی جاتی ہیں ۔اس سلسلے میں انہوں نے گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ گولڈن کارڈ کے فوائدکن مخصوص امراض اور مریضوں کے ساتھ منسلک ہے ۔اس حوالے سے جانکاری مہم کا آگاز کیا جائے تاکہ کوئی مریض یا تیماردار اسپتال میں داخل ہونے کے بعد پریشان نہ ہوجائے اور اس اسکیم کی طوالت اور لوازمات میں کمی لائی جائے تاکہ پریشان حال مریض یا تیماردار کو مشکلات کاسامنا نہ کرنا پڑے ۔انہوں نے مزید یہ مطالبہ دہرایا کہ کارڈ کی اجرائی کے معاملے کی تحقیقات عمل میں لائی جائے اور اس طرح کی ٹال مٹول کی پالیسی اپنانے والوں کیخلاف کاروائی عمل میں لائی جائے تاکہ گولڈن کارڈ کی اجرائی میں رکاوٹیں حائل نہ ہوں اور مشکلات سے نجات حاصل کریں گے اور اس کے فوائد سے استفادہ کریں گے ۔