meat in kashmir

گوشت کا کاروبار پھر پٹری سے اتر گیا

ایام متبرکات میں قصاب اور کوٹھدار بے لگام،ڈی کنٹرول کیا جانا صارفین پر عتاب ثابت

سرینگر//ماہ صیام کے اخیری ایام میں عید کی تیاریاں زوروں پر ہیں ۔بازاروں کا رش بڑھ گیا ہے ۔صارفین نے شب قدر کے بعد اتوار کو لالچوک کے سنڈے مارکیٹ سے بھاری خریداری کی تاہم عیدایام کے دوران گوشت کی قیمتوں کو لے کر صارفین بد دلی کا مظاہرہ کررہے ہیں ۔صارفین کا کہنا ہے کہ چونکہ حکومت نے گوشت کی قیمتوں کا کنٹرول اپنے ہاتھ سے چھوڑ دیا ہے اس لئے وہ احتجاج بھی نہیں کر سکتے ہیں تاہم کوٹھداروں اور قصابوں نے ابتدائی ایام میں جس طرح صارفین کو یقین دلایا تھا کہ ڈی کنٹرولنگ کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھایا جائے گا ،اس وعدے پر وہ کھرے اترتے نظر نہیں آرہے ہیں ۔اس وقت وادی میں گوشت بازاروں میں کھلے عام 700سے 750روپے تک فروخت کیا جارہا ہے اوراب اس پر آواز بھی نہیں اٹھائی جاسکتی ہے ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ وادی میں گوشت کی مانگ خصوصا عید ایام کے دوران گوشت کی سپلائی بڑھنے کے ساتھ ہی دلی ،امبالہ ،سیکر اور دیگر منڈیوں میں کشمیر کیلئے اضافی ہول سیل قیمتیں طے کی جارہی ہیں کیونکہ بیرونی منڈیوں کو بھی اس بات کاعلم ہوچکا ہے کہ کشمیر میں اب قیمتوں پر کسی کا کوئی کنٹرول نہیں ہے ۔یہ ایک بدقسمتی والا معاملہ ہے ۔جانکاروں کے مطابق حکومت کی جانب سے گوشت کے کاروبار کو ڈی کنٹرول کرنے کا مقصد مارکیٹ میں سپلائی کا بڑھ جانااور اسکے نتیجے میں قیمتوں کا گرجانا تھا لیکن چونکہ بیرونی منڈیوں سے گوشت کی درآمد اور یہاں پر مارکیٹ پر صرف ایک ہی طبقے کا کنٹرول ہے ،اس لئے حکومت کی یہ نیت خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر پائی ہے ۔بیرونی منڈیوں سے گوشت کی درآمد کرنے والے من مرضی سے سپلائی کا حجم گھٹاتے اور بڑھاتے ہیں اور انہیں قیمتوں پر بھی ازخود دسترس مل جاتی ہے ۔واضح رہے کہ جب حکومت نے 12 دسمبر 1973 کے جموں و کشمیر مٹن (لائسنسنگ اینڈ کنٹرول) آرڈر کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا تو وادی میں یہ کچھ ناقابل یقین تھا۔ حکومت نے محکمہ خوراک، شہری رسد اور امور صارفین کو ہدایت کی کہ کسی بھی حکم کو جاری کرنے یا نافذ کرنے سے گریز کریں۔مویشیوں کی تجارت سے توقع کی جاتی تھی کہ وہ ایک آزاد منڈی کموڈٹی کے طور پر کام کرے گا جس میں قیمتوں کا تعین ڈیمانڈ سپلائی میکانزم پر ہوگا، جیسا کہ دنیا بھر میں ہوتا ہے۔ قیمتوں کا تعین عام طور پر متغیرات کے ایک سیٹ پر ہوتا ہے جس میں پیداواری لاگت، افادیت اور طلب، مقابلہ، مارکیٹنگ کے طریقے اور قیمتوں کے مقاصد شامل ہیں۔عملی طور پر، فیصلے کا ایک مضبوط مثبت اور منفی پہلو ہے، خاص طور پر اس مارکیٹ کے لیے جو روایتی طور پر گرین ہاؤس کی طرح کام کرتی ہے۔ اگر اسٹیک ہولڈرز منصفانہ طور پر تجارت کا فیصلہ کرتے اور مارکیٹ میں مسابقت کی اجازت دیتے تو قیمتوں کے معقول ہونے کا قوی امکان تھالیکن اب ایسا نظر نہیں آرہا ہے ۔گوشت کا کاروبار ایک مخصوص طبقے کے ہاتھ میں رہا ہے اور لائیو سٹاک کے شعبے میں سونے کی ایک نئی کان بننے کی پوری صلاحیت ہے کیونکہ پورے شعبے کا انتظام 200 سے زیادہ افراد کے ذریعے نہیں کیا جاتا ہے۔جس کا جموں و کشمیر میں مجموعی طور پر 15000 کروڑ روپے سے زیادہ کا کاروبار محض ایک روایتی طبقے کے پاس ہے اور اس سیکٹر میں نئے افراد کا آنا ممکن نہیں بن پارہا ہے ۔پورا مٹن سیکٹر ایک ایسے طبقے کے ساتھ ہے جودرآمد اور ریٹیل کو کنٹرول کرتا ہے۔ عام صارفین سوال کررہے ہیں کہ حکومت کے اقدام سے آخر صارف کو کیا فائدہ ہوا ۔عام صارفین حکومت سے گوشت کے کاروبار کو دوبارہ کنٹرول کرنے کی فریاد کرنے لگے ہیں کیونکہ اب کوٹھداروں اور قصابوں نے کھلے عام من مانیاں شروع کردی ہیں ۔