گورنر انتظامیہ پی ڈی پی لیڈران اور سابق ممبران اسمبلی کو سیلیکٹو طور پر نشانہ بنا رہی ہے:محبوبہ مفتی

گورنر انتظامیہ پی ڈی پی لیڈران اور سابق ممبران اسمبلی کو سیلیکٹو طور پر نشانہ بنا رہی ہے:محبوبہ مفتی

سرینگر// پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر اور سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے لیفٹننٹ گورنر کو خط روانہ کرتے ہوئے گورنر انتظامیہ پر الزام لگایا کہ افسران جانبداری سے کام لیکر پی ڈی پی لیڈران اور سابق ممبران اسمبلی کو خصوصی طور نشانہ بنارہے ہیں جبکہ ممبران اسمبلی اور دیگر لیڈران کو سرکاری رہائش گاہیں خالی کرنے پر دباؤ ڈالا جارہا ہے ۔کے این ایس کے مطابق سابق وزیر اعلی اور پی ڈی پی صدر محبوبہ نے جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کو ایک خط لکھا ہے جس میں انتظامیہ کی جانب سے ان کی پارٹی کے رہنماؤں اور سابق ممبران اسمبلی کو مخصوص طور نشانہ بنانے پر شدید برہمی کا اظہار کیا گیا۔ایل جی سنہا کو لکھے گئے خط جس کی ایک کاپی کشمیر نیوز سروس کے پاس ہے میں محبوبہ نے انتظامیہ کی جانب سے پی ڈی پی رہنماؤں اور سابق ممبران اسمبلی کو سلیکٹیو طریقے سے نشانہ بنانے پر “گہری” تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انکے لیڈران کو سرینگر میں سرکاری رہائش گاہیں خالی کرنے کو کہا جارہا ہے اور حیرانگی کی بات یہ ہے کہ انکے لئے کوئی متبادل رہائش کے بارے میں کوئی انتظام نہیں کیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ مجھے اس انداز سے سخت تشویش ہے کہ جس طرح سے انتظامیہ سلیکٹو طور پر پی ڈی پی رہنماؤں اور سابق ایم ایل اے کو ایسے وقت میں نشانہ بنا رہی ہے جب عسکریت پسندی میں ایک بار پھر اضافہ ہورہا ہے اور انہیں کوئی متبادل رہائش فراہم کئے بغیر ہی سرکاری رہائش گاہیں خالی کرنے کو کہا جارہا ہے ۔خط میں مزید لکھا گیا کہ تکلیف دہ معاملات وہ یہ ہے کہ انہوں نے بار بار انتظامیہ کو درخواست کی تھی کہ پی ڈی پی لیڈران جو دیہات میں رہائش پذیر ہیں انکو سیکیورٹی فراہم کی جائے لیکن حیرت انگیز طور پر ان درخواستوں کو نامعلوم وجوہات کی بنا پر مسترد کردیا گیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ ریاستی انتظامیہ نے عسکریت پسندوں کی موجودگی کا حوالہ دیتے ہوئے سیکیورٹی فراہم کرنے سے انکار کیا ہےلیکن اسی انتظامیہ نے سرینگر میں محفوظ سرکاری رہائش گاہوں سے انہیں بے دخل کرنے اور جان بوجھ کر انہیں نقصان پہنچانے پر عمل پیرا ہیں ۔انہوں نے خط میں مزید لکھا کہ یہ کوئی راز نہیں ہے کہ حالیہ دنوں میں ہم نے دیکھا ہے کہ منتخب نمائندوں کو کس طرح نشانہ بنایا گیا اور یہاں تک کہ انہیں ہلاک بھی کیا گیا کیوں کہ وہ آسان اہداف ہیں خاص کر جب انہیں مناسب سیکیورٹی فراہم نہیں کی جاتی ہے اور میں آپ کے نوٹس میں یہ بھی بتا دو کہ پی ڈی پی کے سابق ایم ایل اے ظہور میر خود بھی عسکریت پسندی کا شکار ہو چکے ہیں اوران کے والد کو عسکریت پسندوں نے گولی مار دی تھی۔