دنیا بھر کے سائنسدان جانچ میں مصروف، چونکادینے والے انکشافات سامنے آئے
سرینگر//کورونا وائرس کی وبا کے آغاز سے ہی سائنسدان اور محققین اس وائرس کے سراغ کے لیے ہر طرح کی تحقیقات کر رہے تھے۔ اس دوران گندے پانی کی تحقیقات میں انہیں چونکا دینے والے سراغ ملے ہیں۔ اس تحقیقات نے ایک نئے کووڈ مسٹری کو جنم دیا ہے اور اب پوری دنیا کے سائنسدان اس سے متعلق تحقیق میں مصروف ہیں۔ اس کے ذریعے یہ سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے کہ کووڈ-19 وائرس کس طرح کا برتاؤ کرتا ہے اور یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ اس دوران گندے پانی کی تحقیقات میں انہیں چونکا دینے والے سراغ ملے ہیں۔ اس تحقیقات نے ایک نئے کووڈ مسٹری کو جنم دیا ہے اور اب پوری دنیا کے سائنسدان اس سے متعلق تحقیق میں مصروف ہیں۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق کورونا وائرس کی وبا کے آغاز سے ہی سائنسدان اور محققین اس وائرس کے سراغ کے لیے ہر طرح کی تحقیقات کر رہے تھے۔ اس دوران گندے پانی کی تحقیقات میں انہیں چونکا دینے والے سراغ ملے ہیں۔ اس تحقیقات نے ایک نئے کووڈ مسٹری کو جنم دیا ہے اور اب پوری دنیا کے سائنسدان اس سے متعلق تحقیق میں مصروف ہیں۔ اس کے ذریعے یہ سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے کہ کووڈ-19 وائرس کس طرح کا برتاؤ کرتا ہے اور یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ یہ اصل میں ‘نیچر کمیونیکیشنز’ میں شائع ہونے والی رپورٹ میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ یہاں ایک طبقہ کا خیال ہے کہ یہ وائرس ان لوگوں سے آتا ہے جن کو انفیکشن سیکوئینس کے ذریعے نہیں پکڑا گیا تھا جبکہ دوسرے طبقے کا خیال ہے کہ یہ وائرس سے متاثرہ جانوروں سے آسکتا ہے۔ دوسرے طبقے کا خیال ہے کہ یہ وائرس نیویارک شہر کے چوہوں کی وجہ سے پھیلا ہوگا۔ دراصل سائنسدانوں اور محققین نے وائرس سے متعلق مختلف معلومات کے سراغ کے لیے سیوریج اور گندے پانی کا تجربہ کیا تھا تاکہ اسے بہتر طریقے سے سمجھا جا سکے۔نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق سائنسدان یہ جاننا چاہتے ہیں کہ وائرس کی ایسی تبدیلیاں کہاں سے آ رہی ہیں۔ وہیں ان ویریئنٹس کی صلاحیت کا بھی جائزہ لیا جانا تھا۔ سائنسدانوں نے گندے پانی میں ایسے تغیرات کا بھی مشاہدہ کیا جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔ ان کے بارے میں ابھی تک کوئی واضح رائے نہیں بن پائی ہے۔ وہیں اس کا ابھی انسانوں میں پتہ لگانا باقی ہے۔نیویارک میں اس تحقیق کے محققین میں بنیادی طور پر کوئنزبورو کمیونٹی کالج میں مائیکرو بایولوجسٹ مونیکا ٹروجیلو، کوئینز کالج میں وائرولوجسٹ جان ڈینی، مسوری یونیورسٹی میں وائرولوجسٹ مارک جانسن، ٹیکساس اے اینڈ ایم یونیورسٹی کی مائکرو بایولوجسٹ ڈیوڈا اسمتھ سمیت اور دیگر شامل تھے۔ حالانکہ اس ٹیم نے یہ پوری طرح سے نہیں سمجھ سکا کہ آخر انہوں نے کیا ترتیب دی ہے۔










