گلشن ادب جموں وکشمیر کی جانب زبان وادب کے فروغ کے لیے کاوشیں جاری

پروگرام “عکس تخیل” کے تحت شعرائے کرام اور نوآموز قلمکاروں نے طبع آزمائی کی

سرینگر// گلشنِ ادب جموں و کشمیر کے آفیشل واٹس ایپ پیج پر آن لائن پروگرام’’عکس تخیل ‘‘تین نشستوں پر مشتمل رہا۔ پروگرام عکس تخیل کے تحت خوبصورت عکس (برف پوش وادی) کو شعرائے کرام نے اپنے تخیل کا مرکز بنا کر اپنی شعری تخلیقات میں بہترین منظر کشی کی۔کشمیر پریس سروس کے موصولہ بیان کے مطابق پروگرام گلشنِ ادب جموں وکشمیر کے سرپرست اعلیٰ مقبول فیروزی کی نگرانی میں منعقد ہوا۔ پروگرام کے پیش کار تھے گلشنِ ادب جموں و کشمیر کے نائب صدر شبیر فہمی اورتحریک شکرانہ نذیر قریشی ابنِ شہباز نے پیش کی جبکہ پروگرام میں تیکنیکی معاون کے بطورساحل ڈار شامل رہے۔ جن شعرائے کرام و شاعرات نے عمدہ شعری تخلیقات پیش کرکے سامعین کو محظوظ فرمایا اْن میں مولوی ریاض ہاکباری ،ریاض پروانہ ،چمن پنجوری ،ندا رحمٰن ، روشن لعل روشن ، جاں نثار کشمیری ، اے کے ناز ،محتاج گنستانی ، یاسین دریگامی ،شمینہ اعجاز ، ریحانہ کوثر ،بھارتی رینا ،کومل رانو ،عظمیٰ جان ،فریدہ انجم ، نینسی چیتنا ،میر نثار حسین نثار، گوہر مقبول ٹاک ،نذیر جان ،عبدالمجید میر شہباز وانی گامی ،راہی اشوک کول ، غلام نبی غافل،لیکھ راج نرالا ،غلام نبی دلکش ،سید مسعود ھاشم ، رشید سرشار ،.شبیر فہمی ،نذیر قریشی ابنِ شہباز ،عشرت گل ،اکرم صدیقی ، مہکشاں معراج ،محمد شریف بیدار ، محمد یوسف بمبور ،بشیر احمد بشیر ابنِ نشاط کشتواڑی ،ثاقب فہیم ،مقبول فیروزی ،آسیہ نذیر ملک پروین ، سنتوش شاہ نادان ،عتیقہ صدیقی ،وسیم علی کاظم ،غلام رسول شاداب قابل ذکر ہیں ۔پروگرام کے دوران میڈیا سے منسلک شخصیات ڈاکٹر شگفتہ خالدہ ، شاہد رشید ، شکیل آزاد ، ناظم نذیر ، طارق جنجوعہ ماجد گنائی ،جیلانی کامران بھی متحرک رہے۔ سبھی شعرائے کرام و شاعرات نے اپنی تخلیقات سے عکس تخیل کی بہترین منظر کشی کی جو کہ قابلِ داد وتحسین ہے۔ پروگرام کے اختتام پر گلشن ادب کشمیر کے سرپرست اعلی مقبول فیروزی ، نذیر قریشی ابن شہباز اور شبیر فہمی نے تحریک شکرانہ پیش کرکے شعرائے کرام کا شکریہ ادا کیا۔ادبی شخصیات جن میں ڈاکٹر واحد رضا صاحب، غلام نبی غافل صاحب۔ غلام رسول وگے ،مضروب بانہالی ، راہی اشوک کول ،بھارتی رینا ،عشرت گل ،فریدہ انجم ،ملک پروین ،مہکشان معراج وغیرہ نے شعرائے کرام کی حوصلہ افزائی کی اور اپنے زریں تاثرات سے نوازا اور گلشنِ ادب جموں و کشمیر کے منتظمین کی تعریف کی۔