اداکار آغا علی نے اپنی بیماری کے حوالے سے انکشاف کیا وہ گزشتہ 14 سال سے جلد کی ایک خطرناک بیماری میں مبتلا ہیں جس کا دنیا میں مستقل علاج نہیں ہے تاہم اسے وقتی طور پر کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔آغا علی حال ہی میں نادر علی کے پوڈکاسٹ میں شرکت کی جہاں انہوں نے اپنی بیماری، کیریئر اور دیگر موضوعات سے متعلق گفتگو کی۔بولی وڈ سے متعلق ایک سوال پر آغا علی نے کہا کہ انہیں بولی وڈ پسند ہے، لیکن حال میں انہیں شاید نظر لگ گئی ہے، کچھ فلمیں خاص اچھی نہیں آئی۔فلموں کی آفر سے متعلق بات کرتے ہوئے آغا علی نے کہا کہ فلم نہیں ڈرامے کی آفر آئی تھی، جس کی شوٹنگ دبئی میں ہونی تھی، یہ 4 سال پرانی بات ہے، اس وقت میں کسی اور ڈرامے کی شوٹنگ میں مصروف تھا اس لیے ان کے ساتھ پروجیکٹ نہیں ہوسکا۔آغا علی نے کہا کہ پاکستان میں 2008 کے بعد سے سنیما دوبارہ بحال نہیں ہوسکے۔انہوں نے مزید بتایا کہ لوگ کسی فلم کو اداکار یا کاسٹ کی وجہ سے نہیں بلکہ مواد اور کہانی کو دیکھ کر فلم دیکھنے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ انسان سب سے پہلے فلم کا ٹریلر دیکھتا ہے اگر کہانی اچھی ہوگی تو کاسٹ چاہے کوئی بھی ہو فلم سپر ہٹ جائے گی۔انہوں نے بولی وڈ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ سلمان خان کی حال ہی میں فلم ’کسی کا بھائی کسی کی جان‘ فلم فلاپ ہوئی، لیکن آج بھی لوگ کہتے ہیں کہ ’ٹائیگر 3‘ کا انتظار ہے، کیونکہ فلم کی کہانی انہیں متاثر کرتی ہے، کوئی فرق نہیں پڑتا کہ فلم میں کون ہے، جب فلم کی کہانی اچھی ہے تو فلم سپر ہٹ ہوسکتی ہے۔آغا علی نے لولی وڈ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ کام کسی اور کا اور اسے کرتا کوئی اور ہے، جس کی وجہ سے ہم خود سے جھوٹ بولتے ہیں۔










