کانگریس کے دور اقتدار میں ملک کی پوزیشن کمزور تھی ، ہم نے خواتین کو بااختیار بنایا
سرینگر// وزیر اعظم نریندر مودی نے کانگریس پارٹی پر تابڑ توڑ حملے کرتے ہوئے کہا کہ یہ پارٹی خواتین کی بہتری کے حق میں نہیں ہے اور آ ج تک کانگریس نے خواتین کیلئے کچھ بھی نہیں کیا ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ ملک کی باگ ڈور محفوظ ہاتھوں میں ہے اور گزشتہ نو برسوں کے دوران ملک نے نئی بلندیوں کو چھوا ہے ۔ سٹار نیوز نیٹ ورک کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو کہا کہ راجستھان کو ایسی حکومت کی ضرورت ہے جو ترقی کو اولین ترجیح دے، جب کہ کانگریس کے لیے بدعنوانی اور خاندانی سیاست سے زیادہ اہم کوئی چیز نہیں ہے۔ راجستھان کے پالی ضلع میں ایک انتخابی ریلی میں انہوں نے کہا کہ کانگریس اپنے آ پ کو خوش کرنے کے علاوہ کچھ نہیں سوچ سکتی۔انہوں نے کانگریس اور اس کے اتحادیوں پر خواتین مخالف ذہنیت رکھنے کا الزام بھی لگایا۔وزیر اعظم نے کہا کہ’جب سے خواتین کو ریزرویشن دینے کا قانون ’نرشکتی وندن ایکٹ‘ پاس ہوا ہے، انہوں نے خواتین کے خلاف مہم شروع کر دی ہے۔ متکبر اتحاد کے رہنماؤں نے ہماری ماؤں اور بہنوں کے بارے میں انتہائی قابل اعتراض تبصرے کیے ہیں،‘‘ انہوں نے الزام لگایاکہ بہار کے وزیر اعلیٰ نے اسمبلی میں خواتین کے خلاف انتہائی تضحیک آمیز الفاظ کا استعمال کیا لیکن کانگریس کے کسی لیڈر نے اس بارے میں کچھ نہیں کہا۔ انہوں نے کہاکہ یہ کانگریس کا اصلی چہرہ ہے، جسے راجستھان کے لوگوں نے پہچان لیا ہے۔‘‘انہوں نے یہ بھی کہا کہ کانگریس دلتوں کے خلاف مظالم کے واقعات سے آنکھیں چراتی ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ نو برسوں میں ملک نے نئی بلندیوں کو چھوا ہے اور اس وقت ملک کی باگ ڈور محفوظ ہاتھوں میں ہے اور کسی بھی ملک کی یہ ہمت نہیں ہے کہ وہ ہماری سرزمین پر میلی نظر رکھیں ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کانگریس کے دور اقتدار میں ملک کی پوزیشن کمزور تھی ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اپنی آنکھیں بند کر لیتی ہے جب وہ دلتوں کے خلاف مظالم کرنے والوں کو دیکھتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ’’یہاں کی کانگریس حکومت سوائے خوش کرنے کے کچھ نہیں سوچتی‘‘۔وزیر اعظم نے کہا کہ آج پورا ملک ترقی کے مقصد کے لیے دن رات کام کر رہا ہے اور 21ویں صدی میں ہندوستان جس بلندیوں پر پہنچے گا اس میں راجستھان بہت بڑا کردار ادا کرے گا۔انہوں نے کہا کہ راجستھان میں ایک ایسی حکومت کی ضرورت ہے جو ریاست کی ترقی کو اولین ترجیح دے۔










