گزشتہ دو برسوں میں جموں کشمیر میںبے روزگاری میں 8فیصدی کا اضافہ ہوا

سرینگر// ماہرین اقتصادیات نے انکشاف کیا ہے کہ جموں کشمیر میں گزشتہ دو برسوں میںبے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے اور اس وقت ملک میں سب سے زیادہ بے روزگاری کی شرح جموں کشمیر میں ہے جہاں سال 2019سے بے روزگاری کی شرح میں 8فیصدی اضافہ ہوا ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق ماہرین اقتصادیات نے انکشاف کیا ہے کہ جموں کشمیرمیں ملک میں سے سب سے زیادہ بے روزگاری ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس وقت جموں کشمیر میں 21.6فیصد ی بے روزگاری کی شرح ہے جو ملک کی دیگر ریاستوں اور یوٹیز میں سے سے زیادہ شرح ہے ۔ ماہرین اقتصادیات نے بتایا ہے کہ گزشتہ دو برسوں میں بے روزگاری کی شرح بڑھ گئی ہے اور سال 2019سے پہلے یہ شرح 12.5فصدی تھی جس میں 8فیصدی سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے اور اس وقت جموں کشمیر میں 21.6فیصدی بے روزگاری ہے ۔ اس سلسلے میں CMIE،(کنزیومر پیرامڈس ہاوس ہولڈ سروے مشنری)کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار میں بتایا گیا ہے کہ اگست 2021تک 13فیصدی شرح بڑھی ہے ۔ سی ایم آئی ای نے بتایا ہے کہ سرکاری اعداد شمار میں بتایا گیا ہے کہ جموں کشمیر میں اس وقت 20فیصدی بے روزگاری ہے جو ملک کے کسی بھی حصے سے سب سے زیادہ ہے ۔ اعدادوشمار میں بتایا گیا ہے کہ ہریانہ ، دہلی، راجستھان اور ترپورہ میں بے روزگاری کی شرح 15فیصدی ہے جو ملک میں سب سے زیادہ ہے البتہ جموں کشمیر میں یہ شرح 21فیصدی سے بھی زیادہ ہے ۔ ماہرین اقتصادیات کے مطابق ایمپلائمنٹ ایکسچینج اور ایس ایس آر بی میں درجہ چہارم اسامیوں کیلئے 3لاکھ درخواستیں پوسٹ گریجویٹ، پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈروں کی جانب سے موصول ہوئی ہیں جبکہ اس دوران قریب 5.4لاکھ امیدواروںنے درخواستیں جمع کی تھیں ۔ ماہرین نے بتایا ہے کہ جموں کشمیر میں روزگار کیلئے سرکاری نوکری ہی ایک اہم ذریعہ ہے کیوں کہ سرکار پرائیویٹ سیکٹر کو بڑھاوادینے میں ناکام ہوچکی ہے اور جو نجی ادارے چلائے جارہے ہیں ان میں لوگوں کا کافی استحصال ہورہا ہے اور ان کی تنخواہیں بھی قلیل ہونے کے نتیجے میں پڑھے لکھے نوجوان پرائیویٹ اداروں میں کام کرنے سے گریز کررہے ہیں اور اس کو وقت کیا زیاں تصورہ کرتے ہیں ۔ کشمیر میں مسئلہ اس حقیقت سے پیچیدہ ہے کہ خطے میں نجی شعبے کو ابھی تک اپنی پوری صلاحیت نہیں ہے۔ یہاں روزگار کا بنیادی ذریعہ سرکاری شعبہ ہے جو کہ اس حد تک پھیلا ہوا ہے کہ آپ کے پاس تقریبا 1 1 لاکھ نوجوان سرکاری محکموں میں روزانہ کام کرنے والے ملازمین کے طور پر کام کر رہے ہیں اور اپنی خدمات کو باقاعدہ بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ صورتحال کے باعث جموں و کشمیر کا دو سال کا سیاحت کا شعبہ بھی خستہ ہے۔ ترقی پذیر صنعتی شعبے کے ساتھ ساتھ کارپوریٹ سیکٹر کی عدم موجودگی میں سرکاری محکمے یو ٹی میں سب سے زیادہ ملازم ہیں۔