مقامی و غیر مقامی سیاحوں کی بھاری تعداد ان دنوں گریز وادی کی سیر کرکے لطف اندوز
سرینگر // وادی کشمیر میں سیاحتی سرگرمیوں میں اضافہ کے بیچ وادی گریز سیاحوں کی نئی پسند بن چکی ہے اور سیاحوں کی اچھی خاصی تعداد ان دنوں گریز وادی کا دورہ کرکے وہاں قدرتی نظاروں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ وائس آف انڈیا کے مطابق فروری 2021 میں لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی معاہدے کے بعدسرحدوں پر امن قائم ہے۔ جس کے چلتے اب سرحدی علاقوں میں بھی سیاحتی سرگرمیاں عروج پر پہنچنے لگی ہے۔ گزشتہ تین سالوں کے دوران سیاحوں کی اچھی خاصی تعداد سرحدی علاقوں کا رخ کرنے کے خواہشمند رہتے ہیں اور سیاح سرحدوں کا رخ کرنے کیلئے بے تاب نظر آتے ہیں۔ اسی کے چلتے وادی گریز ان دنوں سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن چکی ہے اور بڑی تعداد میں ملی و غیر ملکی سیاح گریز وادی کا رخ کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ وی او آئی نمائندے امان ملک کے مطابق بڑی تعداد میں سیاحوں نے گریز وادی کا دورہ کرنے کے حوالے سے اپنے جوش و خروش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کی خوبصورتی کا کوئی موازنہ نہیں ہے اور حکام کو اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ پلاسٹک کا کچرا اور دیگر چیزیں کھلے میں نہ پھینکی جائیں۔ سیاحوں نے کہا کہ یہ ایک قدرتی خوبصورتی ہے اور اس کے ماحولیاتی نظام کو انسانی شمولیت سے پریشان نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیں یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ اس جگہ کو سیر و تفریح اور کیمپنگ کے مقاصد کے لیے کھولا جا رہا ہے۔ اس جگہ کا دورہ کرنے والے تمام افراد کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ فضلہ قدرتی میدانوں میں نہ پھینکا جائے اور پانی کی ندی بہتی ہے۔ ایک اور سیاح کا کہنا تھا کہ گریز جگہ کسی جنت سے کم نہیں۔انہوں نے کہا ’’ یہ میرا یہاں پہلی بار دورہ ہے اور ایمانداری سے بے مثال محسوس ہوتا ہے۔ قدرتی حسن کے لحاظ سے اس جگہ کا کوئی ثانی نہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ اس جگہ نے ہماری توجہ اپنی طرف کھینچ لی اور ہم سب کو رات گزارنے پر مجبور کر دیا۔انہوں نے یہ بھی مشورہ دیا کہ لوگوں کو اپنے سامان کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے۔ کسی کو بھی پلاسٹک کے تھیلے اور دیگر فضلہ کھلے میں نہیں پھینکنا چاہیے۔ اس کے نتیجے میں اس خوبصورت جگہ کی تباہی ہوگی۔










