گریز میں بجلی کی بدحالی پر عوامی احتجاج

حکام کی یقین دہانی کے بعد مظاہرہ پْرامن طور پر ختم

سرینگر//وی او آئی//کنزلوان گاؤں کے مکینوں نے اتوار کی دوپہر بجلی کی طویل اور غیر یقینی کٹوتیوں کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے گرڈ اسٹیشن کنزلوان کے قریب سڑک بند کر دی، جس سے ڈیڑھ گھنٹے تک ٹریفک جام رہا۔ مرد، خواتین اور بزرگ بڑی تعداد میں جمع ہوئے اور الزام لگایا کہ حالیہ گرڈ اسٹیشن کے افتتاح کے باوجود بجلی کی صورتحال میں کوئی بہتری نہیں آئی۔ گرڈ اسٹیشن کا مقصد کنزلوان سمیت 14 دیہات کو بجلی فراہم کرنا تھا، مگر خود کنزلوان مسلسل بلیک آؤٹ اور کم وولٹیج کا شکار ہے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ افتتاح کے وقت کیے گئے وعدے عملی طور پر پورے نہیں ہوئے اور گاؤں اب بھی اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے۔ عبدالمجید لون نامی ایک مقامی باشندے نے بتایا کہ صرف ایک ٹرانسفارمر تقریباً 150 گھروں کو بجلی فراہم کر رہا ہے جو ناکافی ہے، اور کم از کم دو ٹرانسفارمر فوری طور پر درکار ہیں۔ شام کے وقت وولٹیج 60 سے 90 تک گر جاتا ہے جس سے زندگی خاص طور پر سردیوں میں مشکل ہو گئی ہے۔ بعد ازاں نائب تحصیلدار گریز اور ڈی او ازمرگ موقع پر پہنچے اور مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی، جس کے بعد احتجاج پْرامن طور پر ختم ہوا اور ٹریفک بحال کر دیا گیا۔