کشمیر میں جون کی آمد کے ساتھ ہی جہاں گرمی کی شدت نے عوام کو بے حال کر دیا ہے، وہیں محکمہ پی ڈی ڈی (محکمہ برقیات) اور محکمہ جل شکتی کی ناقص کارکردگی نے مشکلات کو دوچند کر دیا ہے۔ ان بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی نے عوامی غصے کو جنم دیا ہے اور ریاستی نظم و نسق کے دعووں کو بےنقاب کر دیا ہے۔محکمہ برقیات کی جانب سے بجلی کی مسلسل اور غیر اعلانیہ کٹوتیوں نے اس تصور کو تقویت دی ہے کہ یہ محکمہ اب صرف پاش علاقوں کی سہولتوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ شہری اور نیم شہری علاقوں میں دن کے کئی گھنٹے بجلی غائب رہتی ہے، جب کہ مخصوص کالونیوں کو مکمل سپلائی دی جا رہی ہے۔ گرمی کی شدت کے دوران، جب بجلی کی اشد ضرورت ہوتی ہے، اُس وقت برقی رو کی عدم دستیابی عوام کے لیے اذیت ناک بن چکی ہے۔حکومت نے بارہا یہ دعویٰ کیا کہ پی ڈی ڈی کو ہدایات دی گئی ہیں کہ گرمیوں میں بجلی کی ترسیل کو یقینی بنایا جائے، لیکن عملی صورتحال ان بیانات کے برعکس ہے۔ یہ دہرا معیار ناانصافی پر مبنی ہے اور عوامی اعتماد کے لیے ایک سنگین دھچکا ہے۔ اگر گرمیوں میں بجلی کے یہ حالات ہیں، تو سردیوں میں کیا ہوگا؟ اس سوال نے عوامی تشویش کو مزید بڑھا دیا ہے۔عوامی مطالبہ ہے کہ محکمہ پی ڈی ڈی کی کارکردگی کا مکمل آڈٹ کیا جائے اور ایسے بدعنوان و نااہل افسران کو محکمہ سے فوری ہٹایا جائے جو صرف ذاتی مفادات کے لیے ادارے کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔ بجلی جیسے بنیادی حق سے محرومی محض تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ ایک انسانی مسئلہ ہے۔دوسری طرف محکمہ جل شکتی کی کارکردگی بھی سخت تنقید کی زد میں ہے۔ جون کے آغاز سے ہی وادی کے بیشتر علاقوں میں پینے کے پانی کی شدید قلت دیکھنے کو مل رہی ہے۔ کئی چشمے خشک ہو چکے ہیں، ندی نالوں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک کم ہو چکی ہے، اور محکمہ کی جانب سے بنائی گئی واٹر سپلائی اسکیمیں ناکارہ ہو کر رہ گئی ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، وادی کے 55 فیصد سے زائد علاقوں میں لوگ پینے کے صاف پانی کے لیے ترس رہے ہیں۔ایسی صورتحال میں محض موسمی اثرات کو ذمہ دار ٹھہرا دینا مناسب نہیں۔ عوام کو بجلی اور پانی کی فراہمی ریاست کی اولین ذمے داری ہے، اور اگر یہ بنیادی سہولیات فراہم نہ کی جا سکیں، تو ترقیاتی دعوے کھوکھلے ثابت ہوتے ہیں۔لیفٹننٹ گورنر انتظامیہ سے مطالبہ ہے کہ وہ اس بحران پر فوری اور سخت نوٹس لے۔ عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے، اور اب وقت آ گیا ہے کہ عوامی مسائل کو محض اعلانات سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے حل کیا جائے۔










