طلبہ و اساتذہ کو شدید مشکلات، والدین اور ماہرینِ تعلیم فکرمند
سرینگر///جموں و کشمیر میں جاری شدید گرمی کی لہر کے دوران وادی کے سینکڑوں تعلیمی ادارے بجلی اور پانی جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، جس کے باعث طلبہ اور عملے کو گوناگوں مشکلات کا سامنا ہے۔ اگرچہ حکومت کی جانب سے اسکولوں کو تمام سہولیات سے آراستہ کرنے کے دعوے کیے جا رہے ہیں، لیکن زمینی حقائق کچھ اور ہی کہانی بیان کرتے ہیں۔سرکاری اعدادو شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں اس وقت 22,422 اسکول سرگرمِ عمل ہیں، جن میں سے وادی کشمیر کے 10 اضلاع میں 10,788 اسکول شامل ہیں۔ ان میں 5,710 پرائمری، 3,894 مڈل، 805 ہائی اور 379 ہائر اسکینڈری اسکول شامل ہیں۔تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ حیران کن طور پر ان میں سے1500سے زائد اسکولوں میں اگرچہ اندرونی بجلی کی وائرنگ موجود ہے، لیکن انہیں تاحال بجلی کنکشن فراہم نہیں کیا گیا ہے۔ صرف 8,918 اسکولوں کو ہی بیرونی ترسیلی لائنوں سے جوڑا گیا ہے۔شدید گرمی میں بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے کلاس روم بھٹی بن چکے ہیں، اور پنکھوں یا دیگر برقی آلات کی عدم موجودگی نے طلبہ کی صحت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ خاص کر کم عمر بچے اور اساتذہ تپتی دھوپ اور حبس زدہ کمروں میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔سب سے زیادہ متاثرہ ضلع شمالی کشمیر کا کپوارہ ہے، جہاں 582 تعلیمی ادارے بجلی سے محروم ہیں۔ اس کے بعد بڈگامیں416، اننت ناگ میں271، بانڈی پورہ میں170، بارہمولہ میں161، پلوامہ میں97، شوپیاںمیں45، کولگام میں44، گاندربل میں48 اور سرینگر میں 36 اسکولوں میں بھی بجلی موجود نہیں۔پانی کی فراہمی کا معاملہ بھی کچھ مختلف نہیں ہے۔ شدید گرمی میں پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی نے صورتحال کو مزید تشویشناک بنا دیا ہے۔ مجموعی طور پر وادی کے 312 اسکول ایسے ہیں جہاں پائپ کے ذریعے پانی سپلائی نہیں کیا جاتا۔ضلع وار تفصیلات کے مطابق بڈگام میں 122، پلوامہ میں 61، شوپیاں میں 53، گاندربل میںاور 26 اور سرینگر میں ایک اسکول کے علاوہ ادھمپور میں9 اسکولوں میں پانی کی سہولت دستیاب نہیں ہے۔ان حالات میں جب کشمیر میں درجہ حرارت معمول سے کئی درجے زیادہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، بجلی اور پانی جیسی بنیادی سہولیات کا فقدان بچوں کی صحت، ذہنی سکون اور تعلیمی کارکردگی پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔ کئی مقامات سے یہ اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ گرمی کی شدت کے باعث بچوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہ، جب کہ اساتذہ بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔اگرچہ حکومت کی طرف سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ تمام اسکولوں میں بیت الخلائکی سہولت موجود ہے، اور جہاں اضافی بیت الخلائکی ضرورت ہے وہ بھی زیر غور ہیں، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ بجلی اور پانی کی غیر موجودگی میں بیت الخلائبھی بے کار ہو جاتے ہیں۔والدین، اساتذہ اور ماہرین تعلیم نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ شدید گرمی کے اس موسم میں فوری طور پر بجلی و پانی کی فراہمی کو یقینی بنائے تاکہ بچوں کی صحت اور تعلیم کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔ کئی والدین نے تجویز پیش کی ہے کہ جب تک بنیادی سہولیات فراہم نہ ہوں، شدید گرمی کے دوران اسکولوں کو عارضی طور پر بند رکھا جائے یا متبادل شیڈول مرتب کیا جائے۔










